Tu mera junoon
Episode 6
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
کبیر اپنے ساتھا پارسا کو نہیں بلکہ اِس نے اس کی بجائے پریشے ابابیل کو پارسا کی جگہ ائیر پورٹ سے پِک کیا ہے ، یہ بات اِسے معلوم تھی
لیکن بیلا کو معلوم نہیں تھا کہ جس کو فاران سمجھ کے وہ گاڑی میں بیٹھی وہ اس کا منگیتر فاران نہیں بلکہ کبیر خان زادا ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے چاچو کو بری بھلی سناتی رہی اور ان کی تربیت کو کوستی رہی ۔
گاڑی کی بریک جیسے ہی لگی تو بیلا نے سکون کا سانس لیا اور گاڑی سے نکلنے لگی جب فوراً سے پہلے کبیر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں کس کے پکڑ لیا ۔
بیلا نے اس کی یہ حرکت دیکھی تو پھٹ پڑی ۔۔۔۔۔۔
بدتمیز انسان ۔۔۔۔۔گھر جانے دو مجھے پھر دیکھنا ......کیسے چاچو کو تمہارے کرتوت کا بتاؤں گی ۔۔۔۔۔۔ اور اس کی پکڑ سے اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی ۔۔۔۔۔
یہ سنتے ہی کبیر رونے والی شکل بنانے لگا۔۔۔۔۔۔۔اووووووو سچیییییی۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ میں تو ڈر گیا۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر بیلا کو اور غصہ آیا ۔۔۔۔۔وہ کچھ بولتی اِس سے پہلے کبیر بول پڑا ۔۔۔۔۔
دیکھو ۔۔۔۔۔مجھے اس گھر میں ایک ضروری کام ہے ۔۔۔۔۔اور خبردار جو تم یہاں سے ایک انچ بھی ہلی ......چپ چاپ بیٹھی رہنا ۔۔۔۔نہیں تو میں تمہارے ساتھ جو کرونگا اس کی ذمہ دار تم خود ہو گی ۔۔۔۔۔۔بیلا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ کر اس نے بیلا کا ہاتھ چھوڑا اور گاڑی کو لاک کر کے جولی کے گھر کے اندر چلا گیا ۔
بیلا تو شاک ہی رہ گئی جب اس نے فاران کی ہمت دیکھی جو اصل میں کبیر تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبیر نے جیسے ہی جولی کے روم میں قدم رکھا تو وہ وہاں موجود نہیں تھی ۔۔۔اس کے بعد وہ ٹیرس میں گیا ۔ اور حیران رہ گیا کیونکہ ٹیرس پھولوں کی پتیوں سے سجا ہوا تھا ۔ اور ٹیرس کی دیوار پر موم بتیاں رکھی گئی تھی جو کہ ماحول کو خوشگوار بنا رہی تھی ۔
اس کے علاوہ ایک بہت ہی بھینی سی خوشبو بھی تھی ۔ جو کبیر کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی ۔ کبیر نے اس خوشبو کو اپنے اندر اتارا جو اسے اور بھی قریب محسوس ہو رہی تھی ۔ اچانک اسے پیچھے سے کسی نے کس کے گلے لگایا اور اپنے بازو کبیر کے سینے پہ لا کر اس کی شرٹ کو مٹھی میں پکڑا ۔ کبیر ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوگیا ۔
کبیر جیسے ہی جولی سے دور ہوا جولی وہاں سے بھاگتی ہوئی روم میں آگئی ۔
شٹ ۔۔۔۔۔شٹ ۔۔۔۔شٹ۔۔۔یہ کیا کر دیا میں نے اسے منانے آیا تھا اور الٹا اور ہی ناراض کر دیا ۔ کبیر نے اپنے ہاتھ کو دیوار پہ مارتے ہوئے خود سے کہا اور پھر جولی کہ روم میں چلا گیا ۔
اس نے اوپر سے نیچے تک جولی کو دیکھا جس نے backless دریس پہنا ہوا تھا اور پیٹھ کبیر کی طرف ہونے کی وجہ سے کبیر کو با آسانی دکھ رہی تھی ۔ کبیر آہستہ آہستہ اس کے بالکل پیچھے کھڑا ہوگیا ۔ اور اپنا ہاتھ اس کی back پہ پھیرنے لگا جس سے جولی کو بہت مزہ آرہا تھا ۔ اور اس کے دماغ میں گھنٹی بجنا شروع ہوگئی کہ اس کی دلی مراد پوری ہونے کو ہے لیکن اس نے کبیر سے ناراض ہونے کا ڈرامہ ابھی بند نہیں کرنا تھا تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھے اس لئے چپ چاپ گھڑی رہی ..........
کبیر نے جب یہ دیکھا کہ جولی نے کوئی react نہیں کیا تو ان نے جولی کی back کو unzip کر دیا ۔ جس سے اس کی ساری بیک واضح ہوگئی ۔ اب کبیر نے اپنے لب اس کی گردن پر رکھے اور آہستہ آہستہ اس کی گردن سے کمر تک آیا ۔ تقریباً پانچ منٹ بعد بھی جب جولی نے کچھ نہ کہا تو اس نے جولی کا رخ اپنی جانب کیا ۔ اور پھر اس کے بال دونوں جانب سے پیچھے کیے
جولی ۔۔۔۔۔۔۔my sweet heart my im really sorry مجھے پتا ہی چلا اور کب تم پر ہاتھ اٹھا لیا ۔۔۔۔۔یار اب تو معاف کر دو
جولی نے یہ سنا تھا کہ کبیر کے ہاتھ فوراً اپنے ہاتھ میں پکڑ لیے ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ کبیر کیسی بات کر رہے ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔یہ کہنے کے ساتھ ۔۔۔۔۔فوراً اپنے ہونٹ کبیر کے ہونٹ سے ملائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کبیر اب چاہ کر بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا کیونکہ ۔۔۔۔۔پہلے وہ ایسی غلطی کر چکا تھا ۔۔۔۔۔جس کا خمیا زہ وہ اپنے ڈیڈ سے تھپڑ کی صورت میں بھگت چکا تھا ۔ اس لیے اب اس کسسنگ میں وہ جولیانہ کا بھرپور ساتھ دے رہا تھا اور اس کا نچلہ ہونٹ اپنے دونوں ہونٹوں میں دبا چکا تھا ۔ جولی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے کبیر کی shirt کے button کھولے اور
پھر اس کی شرٹ اتار دی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف بیلا کو گاڑی میں بیٹھے ایک گھنٹہ ہوچکا تھا
لیکن وہ ابھی تک باہر نہیں نکلا تھا ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں وہ اندر کیا کر رہا ہے اور جس سے ملنے گیا ہے کیا کام ہے جو اسے ابھی ہی کرنا ہے......یہ سوچ کر اس نے اندر جانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔۔اندر پہنچ کر اسے ہر طرف اندھیرا دکھائی دیا سوائے ایک روم کے ۔۔۔۔۔۔ پہلے تو اس نے واپس جانے کا سوچا کہ اگر فاران کو پتہ چل گہیا تو نجانے وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا لیکن پھر اس نے سوچا کہ وہ اس کا منگیتر ہے ۔۔۔۔۔۔
اس کے بارے میں خبر تو رکھنی چاہیے یہی سوچ کر وہ اندر جانے لے لیے تھوڑا نزدیک آئی جب ان دونوں کو کسسنگ میں مشغول دیکھا ۔۔۔۔۔
یہ سوچ کر بیلا کہ ہوش ہی اڑ گئے ۔۔۔۔۔
چھی چھی ۔۔۔۔۔۔بے شرم گھٹیا انسان ۔۔۔۔اب دیکھنا کیسے مزہ چکھاتی ہوں اسے ۔۔۔۔۔۔یہ کہہ کر اس نے فوراً موبائل لکارا اور video بنانے لگی
جولی کو بیلا نہیں دیکھ سکتی تھی اسلئے کبیر کی شکل بیلا کو باآسانی نظر آرہی تھی ۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف کبیر کو دروازے کے باہر کسی کے ہونے کا احساس ہوا تو اسے اچانک بیلا کا خیال آیا کیونکہ MR james آجکل ملک سے باہر تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے فوراً جولی کو خود سے الگ کیا ۔۔۔۔۔۔اور اس سے drink لانے کا کہہ کر باہر نکلنے لگا ۔
جیسے ہی بیلا نے کبیر کو باہر آتے ہوئے دیکھا تو اس کی ہوائیاں اڑنے لگی وہ فوراً dinning table کے نیچے چھپ گئی ۔۔۔۔۔۔
کبیر باہر نکلا تو اسے کوئی نظر نہ آیا ۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنا وہم سمجھ کر bar میں چلا گیا ۔۔۔۔جب اچانک اسے dining table کے نیچے کسی کی حرکت کرنے کا احساس ہوا ۔۔۔۔۔۔اس نی جیسے ہی نیچے بیٹھ کر جھانکا تو .......بیلا کو اپنے منہ کے آگے ہاتھ رکھا دیکھ لر حیران ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
اس نے فوراً اسے کھینچ کر باہر نکالا ۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کے بیلا چیخ مارتی کبیر نے اس کے منہ کے آگے فوراً اپنا مضبوط ہاتھ رکھ دیا ۔
اور اسے گھسیٹتے ہوئے bar لے گیا ۔۔۔۔۔۔وہاں جاکر اسے فوراً دیوار کے ساتھ لگایا ۔۔۔۔۔۔جب بیلا نے اسے اپنے اتنے پاس دیکھا اور وہ بھی بغیر shirt کے ۔۔۔تو اس نے اپنی آنکھیں زور سی بند کر لی
اپنا موبااااااائللللل دووو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبیر نے آستہ سا مگر غصے سے اسے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ممممیییررررےےے پاس ننہییں ہےےےے رود ہٹو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔
بیلا نے ہچکچاتے ہوئے اس سے کہا ۔۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر کبیر اور نزدیک ہوا ۔۔۔۔۔۔اور اپنا چہرہ اس کے چہرے کے پاس کیا ۔۔۔۔۔۔دیکھوووو آرام سے مجھے فون دے دو نہیں تو punishment تو تمہیں ملنی ہی ہے یہ نا ہو کہ اس کو میں اور سخت بنا دوں کبیر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس سے کہا
کہاااااانااااااا میں نے کہہ میرے پاس نننننہہہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ اتنا ہی کہتی ہے کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ کبیر اپنا ہاتھ اس کی شرٹ کے اندر ڈال رہا ہے ۔۔۔۔۔۔اسےےےےےے یقین نہیں آتا
جیسے ہی کبیر اپنا ہاتھ اس کے جسم کو لگاتا ہے بیلا کہ منہ سے آہ نکلتی ہے ۔۔۔۔۔۔
ف۔ ففاااا فا ۔۔۔رااا۔ فاران۔۔۔۔۔۔۔بیلا ابھی اتنا ہی کہتی ہے کہ کبیر اپنے ہاتھ کی گرفت اس کے جسم پر مصبوط کر لیتا ہے اور اس کے پیٹ پر ہلکی سی چٹکی کاٹتا ہے .
کببیییییرررررر ۔۔۔۔۔۔کبیر نام ہے میرا ۔۔۔کبیر خان زادہ ۔۔۔۔سنا تم نے ۔۔۔۔ اب شرافت سے موبائل دو مجھے ۔۔۔۔۔نہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں یہ تو تم نے اندر دیکھ ہی لیا تھا اور قسم سے تمہارے ساتھ تو میں اور بھی اچھے طریقے سے کرونگا ۔۔۔۔۔۔اوووررررر بھیییی زیادہ ۔۔۔۔۔۔کبیر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر اوپر سے نیچے تک اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہتا ہے
بیلا کو یہ سننے کی دیر ہوتی ہے کہ وہ اور پیچھے ہوجاتی ہے اسے اب پتہ چلتا ہے کہ جسے وہ کب سے فاران سمجھ کہ بیٹھی ہے وہ کبیر ہے مطلب اس وقت وہ اکیلی ہے ۔۔۔۔۔ اس کا کبیر سے ڈر اور بڑھ جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔کبیر اس کے سامنے چٹکی بجاتا ہے جس سے وہ واپس دنیا میں آتی ہے ۔۔۔۔۔
پھر کیا سوچا پری نے ۔۔۔۔۔۔اوووہہہہہ I mean بابا کی پری نے ۔۔۔ہممممممممممم ۔۔۔۔ویسے room کی tension نہ لینا ایک اہو روم بھی ہے ویاں ہمیں کوئی disturb بھی نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔اور ہم مزے سے masti کرے گے ۔۔۔۔۔۔ کبیر one side smile کر کے بیلا کو کہتا ہے
اس ا مطلب سمجھتے ہوئے بیلا فوراً اپنا موبائل کبیر کو دے دیتی ہے
کبیر موبائل میں video check کرتا ہے اور فوراً سے پہلے del کرتا ہے پھر موبائل اسے دینے کی بجائے اپنی pant کی pocket میں ڈال کر drink بنانے لگتا ہے ایک drink میں وہ بہیہوشی کی دوائی ملاتا ہے
بیلا اس کے کادنامے دیکھ رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔وہ دونوں گلاس ہاتھ میں اٹھاتا ہے اور بیلا کو آنکھ مار کر اندر چلا جاتا ہے
بیلا کا موبائل اب کبیر کے پاس تھا جس کی وجہ سے وہ چاہ کر بھی یہاں سے نہیں نکل سکتی تھی ۔
کبیر کمرے میں گیا توجولی فوراً کے پاس آئی اور دوبارا کبیر سے چمٹ گئی ۔۔۔۔کبیر نے پیار کا دکھاوا کر کے آرام سے اسے بیڈ پہ لٹایا اور drink کا گلاس جو اس کے لیے special تیار کیا تھا ، اس کے لبوں سے لگایا جس سے وہ فوراً بیہوش ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کبیر نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اور اپنا لایا ہوا bracelet اس نے sidetable پر رکھا ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ٹیرس سے ایک گلاب لایا اور bracelet کے ساتھ رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔
باہر آیا تو بیلا باہر اسی کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
اس نے ایک نظر بیلا کی طرف دیکھا اور باہر چلی گئی ۔۔۔۔۔
اوووو hello excuse me ???? میرا موبائل ۔۔۔۔بیلا کی آواز پر کبیر وہیں رک گیا اور اپنی پاکٹ سے اس کا موبائل نکالا ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ رہا موبائل ۔۔۔۔لینا چاہتی ہو ؟؟؟؟ لے لو !!!
بیلا جیسے ہی موبائل لینے لگتی ہے کبیر اپنا ہاتھ فوراً اوپر کر لیتا ہے
جس کی وجہ سے بیلا کا چہرہ لال ہوجاتا ہے کبیر اس کی یہ حالت دیکھ کر بہت محظوظ ہوتا ہے
لاکھ کوشش کے بعد بھی بیلا کے ہاتھ موبائل نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔کب دوبارہ بیلا کبیر کے پاس آتی ہے اور موبائل لینے کی کو شش کر تی ہے تو کبیر اپنا دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر رکھ کر اپنے قریب لے آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
جس کی وجہ سے بیلا تپ جاتی ہے ۔
اتنے بڑے ہوگئے وہ لیکن شرم نام کی کوئی چیز نہیں ہے تمہارے اندر
اس کی بات سنتے ہی کبیر کی ہنسی چھوٹ جاتی ہے
ہاہاہاہاہا so innocent اچھا اگر تمہیں یہ موبائل چاہیے تو میرا ایک کام کرنا ہوگا ۔
بیلا ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کام ؟؟؟؟؟؟ اس کے کہنے پر کبیر اپنا منہ اس کے منہ کے پاس کرتا ہے
بسسسسس چھٹا سا کام little girl یہاں پہ ایک پاری سی kissi چاہیے
بیلا لے تو ہوش اڑ گئے کبیر کی بات سن کر لیکن اپنا موبائل اسے ہر حال میں چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنے بابا کو کال کر کے address لینا تھا یہ سوچتے ہوئے وہ اپنا ہونٹ کبیر کی داڑھی کے پاس لے گئی اور ایک ہاتھ اوپر موبائل کی طرف بڑھایا اس کے ساتھ ہی اپنے دانتوں سے زور سے کبیر کے داڑھی کے بال کھینچے اور اگلے ہی لمحے موبائل اس کے ہاتھ میں تھا........
کبیر کی چیخ ہوا میں بلند ہوئی اور پھر اس نے آنکھ کھولی تو سامنے بیلا ہاتھ میں موبائل لئے اسے چڑا رہی تھی ۔۔۔۔۔
ہی دیکھ کر اسے غصہ آگیا ۔۔۔۔۔
یہ تم نے سہی نہیں کیا ۔۔۔۔اب دیکھنا میں کیا کرتا ۔۔۔۔۔ کبیر نے دل میں کہا
لیکن بعد میں بیلا کو اندازہ ہوا کہ کبیر کے ساتھ ہی اس نے گھر جانا ہے ایک یہی ہے جو گھر لے کر جاسکتا ہے گو اس نے فوراً کبیر سے sorry کر لی اور اب دونوں گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن جب کبیر نے اس سے address پوچھا تو اسے آتا نہیں تھا ۔۔۔۔۔اس نے کبیر کو گھر کی pic دکھائی جس سے اسے اندازہ ہوا کہ یہ فلا ں society کا گھر لگ رہا ہے اور .house no بیلا کو زبانی یاد تھا ۔۔۔۔۔ کبیر نے گاڑی کے شیشے کی طرف خود کو دیکھا تو اپنی cheek پر لال نشان نظر آیا یہ دیکھ کر اسے وہ scene یاد آیا اسے یہ لڑکی بہت ہی معصوم اور ڈرپوک لگی ۔ پھر حیرت بھی ہوئی کہ یہ یہاں کس غرض سے آئی ہے
خیر تھوڑی دیر بعد گاڑی اس گھر کے آگے رکی بیلا فوراً گاڑی سے اتری اور اپناسامان نکالا کبیر نے ایک بیگ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔۔ اور گھر کے اندر جانے لگے ۔۔۔۔
Tu mera junoon
Episode 7
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
جیسے ہی گاڑی سے اترتی ہے تو سامنے والے گھر کا name plate پر بڑا سا کر کے سنہرے حروف میں لکھا " فاران لغاری مینشن" دیکھ کر بیلا کی سانس میں سانس آئی ۔ جبکہ اس کے برعکس اس کے مقابل کھڑا ہوا شخص کسی گہرے صدمے میں جاتا دکھائی دیا ۔
کبیر اور فاران لغاری ایک ہی uni سے graduate ہوئے تھے ۔اور جولیانہ پہلے فاران کے ساتھ ہوتی تھی جب کبیر نے اپنے باپ کے کہنے پر جولی سے دوستی کر لی تب سے فاران اور کبیر میں دراڑ پیدا ہو گئی تھی ۔ اور کبیر اسے نیچا دکھانے اور jealous feel کرانے کا کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا ۔
شکر ہےےےےے ۔۔۔۔۔thank God اپنی منزل پہ پہنچی ۔ بیلا نے پھولے ہوئے سانس کے ساتھ کہا جس کی بات سن کر کبیر نے ہوش کی دنیا میں قدم رکھا ۔
کبیر سوچتا ہے کہ ۔۔۔۔ جب فاران مجھے اس کے ساتھ دیکھے گا تو اس کے تن بدن میں آگ ہی لگ جائے گی ۔۔۔۔۔لیکن اب مسلہ یہ تھا کہ وہ اندر جائے کیسے ؟؟؟ اور فاران کو surprise کیسے کرے؟؟؟؟؟؟
کبیر فوراً بیلا کے پیچھے آتا ہے جو اندر کی طرف بڑھنے لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور جان بوجھ کر اسے پیچھے کی طرف دھکیلتا ہے ۔۔۔۔۔جس سے بیلا کمر کے بل نیچے گر جاتی ہے ۔۔۔۔۔
آؤچچچچچچچچ ۔۔۔۔۔۔۔ کمینے انسان ۔۔۔۔۔ تمیز نہیں ہے تم میں ۔۔۔۔۔ہائے میری کمرررررر ۔۔۔۔۔ بیلا گرتے ہی چیخنے چلانے لگتی ہے ۔۔۔۔۔
ایک تو تم خود گری ہو اوپر سے مجھے گالیاں سنا رہی ہو stupid girl یہیں سیکھ کے آئی ہو پاکستان سے ۔۔۔۔۔ کچھ دن میرے پاس رہوگی ناں ۔۔۔۔۔تو سیدھا کر دونگا تمہیں ۔۔۔۔۔خیر آؤ تمہاری مدر کروں ۔۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے کبیر نے اپناہاتھ آگے کیا لیکں بیلا نے جھٹک دیا۔۔۔۔۔ایسا کرنے سے کبیر اپنی انا بیچ میں لے آیا تھا ۔۔۔۔۔۔اور فوراً سے پہلے اسے اپنی باہوں میں بھر کے اندر کی طرف روانہ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے ۔ وہ ایک بہت بڑا ہال تھا ۔ لیکن اندھیرے کی وجہ سے سہی دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر نے ایک صوفے پہ بیلا کو لٹایا لیکن درد برداشت سے باہر ہو رہا تھا جس کی وجہ سے وہ فوراً اپنا منہ صوفے کی۔طرف کر گئی ۔۔۔۔۔اور آنکھیں بند کر لی تھی ۔۔۔۔۔ کبیر کو اس کی کیفیت دیکھ کر خود پر غصہ آیا ۔۔۔۔۔۔اور پھر اچانک اس کے منہ کے پاس آیا ۔۔۔۔
اہہہننننن اہنننن ۔۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے میں بہت اچھا physiotherapist ہوں اور اب تو درد بھی میں نے ہی تمہیں دیا ہے ۔۔۔۔بقول تمہارے ۔۔۔۔۔تو بھرمائی کا ایک موقع تو ملنا ہی چاہیے ۔۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہی وہ اس کی کمر کو ٹچ کرتا ہے ۔۔۔۔۔اور ہاتھ آگے پیچھے پھیر کر اس سے پوچھتا ہے ۔۔۔۔۔
اوووووچچچچچچچ یایییہہااااااں ں ں ادھر ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیلا سسک کر اسے درد کا بتاتی ہے ۔۔۔۔۔
اہاں ۔۔۔okay lemme check یہ کہتے ہی کبیر اس کی شرٹ اوپر کرنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔
نہیں please اوپر سے ہی treat کر دو ۔۔۔۔بیلا کبیر کے ہاتھ اپنے جسم پر محسوس کر کے فوراً بول اٹھی ہے ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔میں اپنے patient کو check کرنے کےلیے پوری گہرائی تک جانا پسند کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ تمہیں تھوڑا بہت برداشت کرنا پڑے گا تاکہ میں جلدی سے اپنا کام ختم کر کے یہاں سے جاؤں ۔۔۔۔okay ???
کبیر یہ کہہ کر آہستہ آہستہ اس کی shirt کندھوں تک لے جاتا ہے
اور اپنے ہاتھ سے اس کی کمر سہلانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ابھی تک اسے کوئی آس پاس آتا کوئی نہ دکھائی دیا ۔۔۔۔۔۔ پھر اس نے بیلا کو دیکھا
جو دونوں آنکھوں کو آپس میں بھینچے ہوہے تھی ۔ ابھی وہ اسے جی بھر کر دیکھ ہی نا سکا تھا کہ اچانک اسے قدموں کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطلب کبیر کو جس لمحے کا شدت سے انتظار تھا وہ آن پہنچا تھا ۔۔۔۔۔کبیرجھٹ سے بیلا کی کمر کے قریب اپنا چہرہ لے گیا کہ اچانک
کسی نے ہال کی ساری lights آن کر دی جس سے پورے کا پورا گھر روشن ہوگیا ۔
یہہہہہہہ کیااااااا ہووووا رہااااا ہےےےےے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ لغاری صاحب کی آواز جیسے ہی ان دونوں کے کان میں پڑی تو فوراً صوفے سے اتھ کھڑے ہوئے ۔۔۔۔۔
بیلا جیسے ہی لغاری سے ملنے آتی ہے تو وہ تو وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیتا ہے
خبردار جو تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا ۔۔۔۔۔۔ ان کی آواز میں اتنی گرج ہوتی ہے کہ بیلا سہم کر پیچھے ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔
ہیلو انکل ۔۔۔۔۔۔۔۔ I'm kabeer khan zada
کبیر اپنا ہاتھ آگے بڑھاتا ہے جب لغاری صاحب واپس چلے جاتے ہیں ہیں
کبیر اندر ہی اندر جشن منا ریا ہوتا ہے کیونکہ اس بار دوبارہ اس نے فاران لغاری کو شکست دی تھی ۔ اس کی نظر بیلا پر پڑتی ہے جو
موٹے موٹے آنسو بہا کر رونے میں مگن تھی ۔۔۔۔
چچچچچچ چچچچ۔۔۔۔۔۔۔۔sorry innocent girl میں نے تمہیں hurt کیا
لیکن یہ کرنا بہت ضروری تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نہیں سمجھو گی ۔۔۔۔کبیر اپنے دل میں بیلا سے افسوس کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اتنی دیر میں لفاری صاحب دوبارہ آتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور اس بار ان کے ہاتھ میں ایک موبائل ہوتا ہے ۔
رکو ابھی تمہارے کرتوت بتاتا ہوں تمہارے باپ کو ۔۔۔۔۔یہ کہہ کر وہ فوراً
شہاب صاحب کو کال ملاتے ہیں لیکن ہر بار ان کا نمبر بنر جا رہا تھا
چاچو ۔۔۔۔۔دیکھے آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے یہ ایک .....physio
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس یہ جوووووو کوووئی بھی ہےےےے تم ااببب اس کےےے ساتھھھھھ ہییییی جااااؤ گییییییی اس گھر میں تمہارے جیسے گند کو برداشت نہیں کر سکتا ........
رک جائے ڈیڈ ۔۔۔۔۔۔۔ لغاری ابھی کہہ ہی رہے ہوتے ہیں کہ پیچھے سے فاران کی آواز آتی ہے ۔۔۔۔۔۔
کبیر اب alert ہو جاتا ہے کیونکہ کہانی میں twist لانے کی باری کبیر کی تھی ۔
فاران جیسے ہی کبیر کو دیکھتا ہے تو غصے کی وجہ سے اس کا رنگ لال ہوجاتا ہے
کبیر بڑے مزے سے اس خاندان کی لڑائی enjoy کر رہا ہوتا ہے جو اسی کی کروائی ہوئی تھی ۔۔۔
کبیر فاران کو جلانے کے لیے بیلا کے قریب چلا جاتا ہے ۔
ڈیڈ آپ شائد بھول رئے ہیں کہ بیلا میری منگیتر ہے اور بہت جلد ہماری شادی ہونے والی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ناں بیلا ۔۔۔۔۔۔ فاران بیلا کہ پاس آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوووووو سوری سلام کرنا تو بھول ہی گیا ۔۔۔۔۔۔۔hiii
میں فاران لغاری تمہارا ہونے والا شوہر I mean مجازی خدا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاران کبیر کو دیکھتے ہوئے دانت پیس کر بولتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوررررر ہاں تم تو اور بھی زیادہ beautiful ہو گئی ہو ۔۔۔۔۔۔ارررےےےے شرماؤ نہیں ۔۔۔۔۔۔ فاران آپنا ہاتھ بیلا کے آگے کرتا ہے جس پر بیلا کبیر کے پاس سے فاران کے پاس چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بیلا نے یہ حرکت کر کے کبیر کو ہوا دی تھی ۔۔۔۔۔ کبیر نے فوراً بات سنبھالی ۔۔۔۔۔۔۔۔
پرررررییییی ؟؟؟؟ تم نے مجھ سے تو یہ سب discuss ہی نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تم سے پوچھا بھی تھا ۔۔۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ kiss مجھے ساری زندگی یاد رہے گی ۔۔۔۔۔کبیر اپنی داڑھی پہ ہاتھ پھیر کر سب کے سامنے بیلا کو شرمندہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔
بیلا شاک رہ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ تو تم نے شرط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیلا اتنا ہی کہتی ہے جب کبیر اس کی بات کاٹ دیتا ہے ہاہاہاہاہا جان اب بات تو نہ بناؤ ۔۔۔۔
یہ سب تماشہ دیکھ کر لغاری صاحب آگ بگولہ ہوجاتے ہیں
اور فاران کی طرف جاتے ہوئے کہتے ہیں۔۔۔میں نے کہاتھا نا کہ لڑکی تھیک نہیں ہے اب بتاؤ ۔۔۔۔۔۔لیکن فاران کو کبیر کا اچھی طرح معلوم ہوتا ہے اس وجہ سے وہ بیلا پر یقین کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔
لغاری صاحب اب کبیر کی طرف اپنا رخ کرتے ہیں
ااااااےےےےےے لڑکے جاااا لےےےے جااا اسے اپنے ساتھ ۔۔۔۔۔چل نکل میرے۔ گھر سےےے ۔۔۔۔
نہیں ڈیڈ بیلا یہاں سے کہی نہیں جائے گی میں بہت جلد اس سے نکاح کر لونگا لیکن اس لڑ کے کے ساتھ تو ہرگز نہیں بھیجونگا ۔۔۔۔۔فاران یہ کہہ کر بیلا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں مظبوطی سے تھام لیتا ہے ۔۔۔۔۔ کبیر یہ دیکھ کر بیلا کو دیکھ کر غصے سے اپنا سر ہلاتا ہے جس کی وجہ سے بیلا ڈر جاتی ہے اور فاران کے ساتھ چپک جاتی ہے ۔۔۔۔
فااافاراننن ددددیکھوووو میں نے کچھ نہیں کیااااا اس نے کہا تھا ۔۔۔۔ کہ میں physiotherapist ہوں اسلئے ۔۔۔۔۔ میرا treatment کرنے لگا بیلا نے فاران کو ساری سچائی بتائی
ھاھاھاھاھاھاھا وااااہہہہ لڑکی مان گئے تمہیں میں اگر physiotherapist ہوتا تب تو تمہارا یہ so-called منگیتر بھی physiotherapist. ہونا چاہیے تھا کیونکہ ہم تو ایک ساتھ پڑھتے آئے ہیں ہےےےےے ناااں انکل جیییییی ؟؟؟؟؟؟؟ کبیر بیلا سے کہہ کر انکل کو ہوا دیتا ہے اور ان کے اندر کے لاوے کو اس ہوا سے اور جگاتا ہے ۔۔۔۔۔اور اگررر treatment کرنا بھی ہوتا تو میں ویسے بھی کر سکتا تھا تم میرا کچھ بھی نہ بگاڑ سکتی آئی بڑی ۔۔۔۔۔بیلا کو دیکھ کر کہہ کر دوبارا لغاری صاحب کو دیکھتا ہے
بسسسسسسس بہتتت ہوا نکل میرے گھررر سے ۔۔۔۔لغاری جیسے ہی بیلا کا ہاتھ پکڑ کے لے کر جانے لگتا ہے فاران فوراً آگے آتا ہے ۔۔۔۔رکیے ڈیڈ no way میں ایسے نہیں جانے دے سکتا بیلا کو ۔۔۔۔ آپ نکاح خواں کو بلوائے اب صرف ہمارا نکاح ہوگا اور وہ بھی اس کبیر کے سامنے
فاران یہ کہہ کر کبیر کو دیکھتا ہے جو اپنی آنکھوں کو چنگاری اسی پر برسا رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
بیلا یہ سنتی ہے تو فوراً لغاری سے ہاتھ چڑوا کر فاران کے پاس آتی ہے اور اس کا بازو پکڑ لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔ دیکھوووو فافاران میں نے صرففف تمہارے بارے میں سوچااا ہے ۔۔۔۔بچپن سے اب تک ۔۔۔۔۔infact میں اس شخص کو تم سمجھ کر اس کے ساتھ بیٹھ گئی مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ گھٹیا انسان اس حد تک گر جائے گا ۔ میں بس اس کی باتوں میں آئی تھی ۔۔۔۔جو کہ میری سب سے بڑی غلطی تھی ۔۔۔۔۔please تم مجھ سے نکاح کر لو ۔۔۔۔۔۔۔میری عزت بچا لوووو ۔۔۔میرے بابا اکیلے یہں اگر انکل نے انہیں ایسے ہی بتا دیا تو ان کا کیا بنے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ بیلا جزباتی ہوجاتی ہے
ششششش شششش فاران اس کی بات کاٹ دیتا ہے ۔۔۔۔۔ اور اس کے کندھے پہ مان بھرا ہاتھ رکھتا ہے ۔۔۔۔
کبیر کو بیلا کی باتیں تیر کی طرح چبھتی ہیں ۔۔۔۔۔اور اوپر سے فاران اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کبیر کو اور غصہ دلاتا ہے ۔۔۔۔۔
کبیر سے یہ برداشت نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ انکل آپ اپنے بیٹے کو کہے کہ وہ بیلا کو چھوڑے اسے نہیں پتہ یہ کتنی بڑی ڈرامہ باز ہے اگراسے عزت کا خیال ہوتا تو مجھ سے بھی تو نکاح کا کہہ سکتی تھی ۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ بیلا کی طرف دیکھتا ہے ۔۔۔۔ اور ایک سلگاتی ہوئی مسکراہت اچھالتا ہے ۔۔۔۔۔۔
لغاری بیلا کو باہر کی طرف دھکا دے کر اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں ،جس سے وہ منہ کے بل زمیں بوس ہونے لگتی ہے کہ سامنے سے کبیر اسے تھام لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیلا کو کبیر کا چہرہ دھندلا سا دکھائی دیتا ہے جس کے بعد وہ بیہوش ہو چکی ہوتی ہے ۔۔۔۔
فاران فوراً بیلا کہ پاس آتا ہے ۔۔۔۔۔لیکن کبیر اپنا ہاتھ آگے کر کے اسے وہیں رکنے کا اشارہ دیتا ہے ۔۔۔۔۔
تیری قسمت میں نہیں تھی یہ ۔۔۔۔۔افسوس ۔۔۔۔۔اوررر ہاں آیئدہ کے بعد پریشے ابابیل کے آس پاس بھی مت دکھنا نہیں تو تجھے چھوڑوں گا نہیں کیونکہ بہت جلد یہ ababeel kabeer khan zada بننے والی ہے
وہ یہ کہہ کر رکتا نہیں ہے بلکہ اسے باہوں میں بھر کر واپس چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اسے جب ہوش آتا ہے تو ۔۔۔۔ اپنے اردگرد نظر دوڑاتی ہے یہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہوتا ہے جہاں صرف ایک بیڈ, تھوڑے سے فاصلے پہ ایک لوہے کی الماری اور ایک صوفہ دکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔۔پھر اچانک اس کو خیال آتا ہے کہ وہ یہاں کیسے آئی ۔۔۔۔۔ساتھ ہی توڑی دیر پہلے ہونے والا منظر ایک فلم کی طرح اس کی سامنے آتا ہے وہ فواً بیڈ سے اترتی ہے کہ اتنی دیر میں ایک عورت اس کمرے کی طرف آتی ہے جس کے ہاتھ میں ایک dish ہوتی ہے وہ dish بیلا کے سامنے رکھتی ہے بیلا کو بہت شدید بھوک لگتی ہے اسلئے فٹافتٹ کھانا کھا لیتی ہے ۔ وہ عورت واپس جانے لگتی ہے کہ بیلا اس سے سوال کرنا شروع ہوجاتی ہے
دیکھو میں نے بغیر کسی چوں چراں کے کھانا کھایا ہے اب پلیز مجھے بتائے میں کہا ہوں ،، بیلا اس سے درخواست کرتی ہے
بیٹا یہ اس گھر کا quarter ہے جہاں اس گھر کے سروٹ رہتے ہیں اور خان آپ کو یہاں لے کر آئے ہیں ۔آپ کو جاب کی ضرورت تھی ناااااااااا اسلئے ۔۔۔۔انہوں نے ہمیں بتایااااااا اوررررہاااا۔ بیٹااا وہ رہا آپ کا سامان ۔۔۔۔۔یہ کہہ کر وہ سامان کی طرف اشارہ کر کے واپس چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
یہ سنتے ہی بیلا کے ہوش اڑ جاتے ہیں خان ۔۔۔۔مطلب کبیر خان زادا.........وہ یہاں ممممجھھےےےے servant کے طور پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لایا ہے oh my God مجھے جلد از جلد یہاں سے نکلنا ہے یہ کہتے ہی وہ باہر کر طرف رخ کرتی ہے ۔۔۔۔۔جب سامنے اسے کھڑا پاتی ہے ۔۔۔۔۔
وہ آتے ساتھ دروازا بند کر چکا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اور اب اس کے قدم بیلا کی طرف بڑھنے لگتے ہیں اور نگاہیں بھی اسی کی طرف جمی ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ جس میں بیلا کو دہشت دکھائی دیتی ہے ۔۔۔۔لیکن وہ اپنے آپ کو کمپوز کرتی ہے اور پھر وہی رک جاتی ہے ۔۔۔۔۔
تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔۔ میرے راستے سے ہٹو اور دروازا کھولو یہ کیا گھٹیاپن ہے ۔۔۔۔۔۔بیلا اپنی ساری بھڑاس باہر نکالتی ہے
گھٹیاپن تو اب دکھاؤنگا اگر تم نے ایک بھی الٹا سیدھا لفظ دوبارا بولا ۔۔۔۔۔۔۔کبیر اس کا بازو پکڑتے ہوئے اس سے کہتا ہے
بیلا کبیر سے اپنا بازو آزاد کروا لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
دیکھووووو اس گھر میں تم ایک servant کی حیثیت سے ہو ۔۔۔۔۔لیکن جلد میرے نکاح میں ہو جاؤ گی لیکن پھر بھی رہوگی نوکر ہی okaaay سووووو یہہہہ نکھرےےے مجھےےےے تو بالکل نہ دکھانا آئی بات سمجھ میں.........کبیر بیلا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے کہتا ہے
تممممممم جیسےےے گھٹیاااا وااحیاات انسان کسی کو بھی پسند نا ہوں اور یہ تمہاری بھول ہے کہ میں تم سے نکاح کرونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا so sweet کتنی پیااااری ی ی ہو یااررررر تم
دل کر رہا ہے ابھی ہی taste کر لوں لیکن نہیں وہ کہتے ہے ناں ۔۔۔۔۔۔صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور یہاں تو مجھے پورے کا پورا ثمر ملے گااااااااا آہہہہہہہ ہ ہ ہ کبیر اس کے سامنے اپنے طنز کے تیر برساتا ہے
اور ایک اور بات یہ نکاح میں صرف اور صرف فاران لغاری کی دشمنی کی آڑ میں آ کر تم سے کر رہا ہوں اس لیے کوئی خوش فہمی پالنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں got it اورررررر ہاں ں تمہارے پاس کل کا دن ہے اس کے بعد میں تمہیں نکاح کےلیے لے جاؤگا سوووو اپنا mind بنا لو ورنہ تمہارے باپ کو بتانے میں لغاری انکل دیر نہیں لگائے گیں جن کا منہ میں پیسے دے کر فلحال بند کرواچکا ہوں ۔۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر کبیر چلا گیا اور بیلا حیرت مبتلا رہی کہ اتنی جلدی میں کہاں سے کہاں آگئی ۔۔۔۔۔کیا سے کیا ہوگئی ؟؟؟؟؟؟؟ لیکن اپنے بابا کو شکائت کا موقع نہیں دے سکتی تھی اسلئے اس نکاح کےلئے وہ دل سے راضی ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔۔لیکن وہ ایک servant کی حیثیت سے نہیں رہنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبیر اسے servant کے طور پر جولی اور اپنے باپ کی وجہ سے لایا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے نکاح کی خبر ان تک پہنچے ۔۔۔۔۔۔اور فاران کو جیتتے ہوئے دیکھنا اس کی فطرت میں نہ تھا اسلئے اس نے یہی فیصلہ کیا ۔ وہ جلد سے جلد بیلا کو فاران سے اس کی بیوی کی حیثیت سے ملوانا چاہتا تھا ۔ اگر کبیر بیلا کو ایک servant کی حیثیت سے بھی اپنے باپ مطلب جمشیر عرف جیمی سے ملوائے گا
توووووو بیلا کا اس کے باپ کو دیکھ کر کیا reaction ہوگا ؟؟؟؟؟
اور شہاب جو کہ بیلا کو جمشید کی پناہ سے بپانے کےلئے اسے پیرس بھیجتا ہے کیا اسے پتا چلے گا کہ اس کی بیٹییییی اسی کے بیٹےےےے کیییی دلہن بننے لگی ہے ۔۔۔۔۔۔اور جب بیلا کو جمشید کا پتہ چلے گا تو اس کا اگلا قدم کیا ہوگا؟؟؟ کیا وہہہ ڈٹ کر مقابلہ کرے گیییییی یاہ پھررررر واپس بھاگنے کی کوشش ۔۔۔۔۔۔۔۔gr
Tu mera junoon
Episode 8
کبیر فاران کے سامنے سے بیلا کو اپنی باہوں میں اٹھا کر لے گیا ۔ یہ بات فاران کو ہضم نہیں ہوتی ۔ اس کا بس نہیں چل رہا ہوتا کہ دنیا تباہ کر دے ۔ ۲ سال پہلے ٹھیک اسی طرح وہ جولی کو اس سے چھین لیتا ہے اور وہ کچھ کر نہیں پاتا ۔۔۔۔۔یہ تو پھر اس کی منگیتر تھی ۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس نے ٹھان لی تھی کہ اس بار وہ کبیر کو بلکل بھی جیتنے نہیں دے گا ۔
کیا ہوا اگر اس نے بیلا سے نکاح کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کے دل صرف میں ہی جیتوں گا ۔۔۔۔۔۔ یہ بات تو اسے پتہ تھی کہ کبیر کے دل میں بیلا کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔پیار تودور کی بات ۔۔۔۔۔وہ تو صرف اِسے نیچا دکھانے کےلیے نکاح کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیے پہلے تو فاران جولی کو کبیر کے کرتوت کا بتانے کا پلان بناتا ہے لیکن پھر یہ سوچ کر کہہ کہیں کبیر بیلا کہ ساتھ کچھ الٹا سیدھا نہ کر لے ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنا ارادہ ترک کر لیتا ہے
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
کبیر بیلا کے روم کے بعد اپنے روم میں جانے لگتا ہے تو راستے میں اسے کسی کے رونے کی آواز آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔جب اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ آواز جمشید (ڈیڈ) کے روم سے آرہی ہیں تو فوراً وہاں کا رخ کرتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔dad are u okay کیا ہوا ہے dad بتائیں مجھے ۔۔۔۔کبیر فوراً
اس کے پاس جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔کچھ بھی سہی نہیں ہے بیٹا ۔۔۔۔۔۔جب تک تمہاری ماں کے قتل کا بدلہ نہیں لے لیتا تب تک میں آرام سے نہیں بیٹھ سکتا ۔۔۔۔۔۔۔اس نے میری بیوی کا قتل کیا ۔۔۔۔۔۔اور اب اس کی بیٹی میرے پیچھے پڑی ہے بیٹا تم خود بتاؤ ایسے میں ، میں آرام سے بیٹھ جاؤں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جمشید عرف جیمی اپنے آنسو بہا کے ساری تفصیل اپنے بیٹے کو سناتا ہے ۔۔۔۔۔
کیا مطلب ڈیڈ ۔۔۔۔۔اس کی بیٹی ۔۔۔۔۔۔ممجھھےے کچھ سمجھ نہیں آرہا آپ کہنا کیا چاہتے ہیں کبیر اپنی بھنویں سکیڑتے ہوئے اپنے باپ سے کہتا ہے
بیٹا اس عورت کی بیٹی ۔۔۔۔پاکستان میں اس نے میرے خلاف آواز اٹھائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ میں نے اسے بتایا کہ اس کی ماں نے تمہاری ماں کا قتل کیا ہے ۔۔۔۔وہ اس وقت سے میرے پیچھے پڑی ہے اور جہاں تک کہہ وہ اب پیرس بھی آپہنچی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جمشید کبیر کو ساری کہانی بتاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیڈ آپ کو اس لڑکی کا نام معلام ہے ؟؟؟؟؟؟ یاااااا پھررررآپ کے پاس کوئی تصویر ہو ؟؟؟؟؟؟ کبیر فوراً ہی پوچھتا ہے
نہیں بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔بس میں نے اسے تب دیکھا تھا جب وہ چند ماہ کی تھی اس کے بعد میں بعد وہ میرے سامنے نہیں آتی تھی ۔۔۔۔میں اس کے باپ سے ہی ملنے گیا تھا ۔۔۔۔اسی سے اس کا پتہ چلا کہ وہ میرے خلاف کھڑی ہے ۔۔۔۔۔۔۔اوووررر ہااں اس کی گردن میں ایک تل ہوگا ۔۔۔۔بالکل ویسا جیسا اس کی ماں کی گردن پر تھا ۔۔۔۔۔۔۔
ڈیڈ دیکھےےےے آپپپپ کو کچھ بھی نہیں ہوگا اور رہی بات اس لڑکی کی تو اس کو تو میں پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالونگا ۔۔۔۔کبیر کی آنکھوں میں ایک نفرت کی آگ ہوتی ہے جب وہ یہ بات کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔وہ یہ کہہ کر روم سے باہر چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اس کے جانے کے بعد جمشید اپنے نکلی آنسوں اپنی انگلیوں کی پوٹوں سے صاف کر کہہ ایک زوردار قہہقہہ فضا میں اڑاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
🌿 ماضی 🌿
جمشید اور اس کی بیوی نہایت خوشگوار زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں ۔اور ان کا ایک بیٹا جس کا نام کبیر خان زادا ہوتا ہے ۔۔۔۔۸ سال کا ہوتا ہے کہ اچانک جمشید کا دوست وفات پا جاتا ہے اور اس کے بعد جمشید اس کے گھر تعزیت کےلیے جاتا ہے تو اس کی بیوی کو دیکھ کر حیران ہوجاتا ہے کوئی کہ اس نے اتنی حسین عورت پہلے نہیں دیکھی ہوتی ۔۔۔۔۔۔اس وقت پریشے ابابیل لگ بھگ چند ہفتوں کی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ان ماں۔ یٹی کو جب اکیلا دیکھتا ہے تو ۔۔۔۔اس کا آنا جانا ان کے گھر اور بھی بڑھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے اپنی بیوی سے اس کے تعلقات خراب ہونے لگتے ہیں اور وہ اسے بار بار جھڑکتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس کا اثر اس کے بیٹے کو پڑجاتا ہے اور اسے بھی یہی لگنے لگتا ہے کہ بیوی کے ساتھ انسان جو مرضی کر سکتا ہے اور اس کے جواب میں بیوی کو سب کچھ سہنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح ایک دفع
جمشید سے اس کی اپنی ہی بیوی کا قتل ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔اور وہ یہ بات کبیر کو نہیں بتاتا بلکہ اسے اپنے ساتھ پیرس لے جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔اور پیرس جا کر اسے بتاتا ہے کہہ اس کی ماں کا قتل ہوگیا ۔۔۔۔۔۔جو کہ اس سمعیہ یعنی بیلا کی ماں نے کیا ہے ۔۔۔یہ سننا کبیر کے لیے ایک صرمے سے کم نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔اور اس کے دل میں اس عورت کے لیے نفرت ہی نفرت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس کی یہ نفرت ختم ہوجاتی ہے کیونکہ اسے بعد میں سمعیہ کی موت کا پتہ چلتا ہے
جمشید کا ایک ملازم ۔۔۔۔۔اس کی ملازمت سے فارغ ہو چکا ہوتا ہے جب اسے پتہ چلتا ہے کہ پریشے کا اب اس دنیا میں کوئی نہیں ہے تو وہ اسے اپنی طرف لے آتا ہے ۔ اور اس کے نام کے ساتھ اپنا نام لگانے کی بجائے ابابیل لگاتا ہے تاکہ یہ جب بڑی ہو تو لوگ اس پر سوال نہ اٹھائے ۔ شہاب اس کا خیال اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر کرتا ہے
لیکن وہ اسے اپنی سچائی نہیں بتاتا کہ کہیں وہ اسے چھوڑ کر نہ چلی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌿 🌿
اب جب کبیر کو پتہ چلتا ہے کہ سمعہ کی بیٹی اس کے باپ کے پیچھے پڑی ہے تو اس کی نفرت دوبارا جاگ اٹھتی ہے
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
کل اس کا نکاح ہے ۔۔۔۔۔۔اس بات کا یقین اب تک اسے آجانا چاہیے تھا لیکن وہ ابھی بھی اسی کشمکش میں تھی کہ کیا کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے اپنا سارا سامان چھان مارا لیکن اسے اپنا موبائل نہ ملا اب اسے پکہ یقین تھا کہ ہو نہ ہو یہ اس کا ہی کیا دھرا ہے ۔۔۔۔۔۔اس کے روم کے بالکل سامنے ایک لان تھا جو کہ کھڑکی سے صاف دکھائی دیتا تھا ۔اس لا ن کے دوسری طرف گھر کی بلڈنگ تھی ۔۔۔۔اچانک بیلا کی نظر ایک روم کی طرف گئی جس کی لائٹ آن تھی اسے فوراً یاد آیا کہ اس نے تھوڑی دیر پہلے کبیر کو اسی روم میں جاتے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔مطلب کہ یہ اسی کا روم تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ فوراً کبیر کے روم میں جانے کا منصوبہ بناتی ہے تاکہ
اپنا موبائل اس سے لے سکے
جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہوتی ہے تو ہر طرف اندھیرا ہی انرھیرا ہوتا ہے وہ چھوٹے چھوٹے قدم سے آگے بڑھتی ہے ۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد اسے اس کے روم کا دروازہ دکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔وہ فوراً اس کے اندر چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی وہ کمرے کے اندر قدم رکھتی ہے تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے ہوش ہی اڑ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جیسے وہ کسی کمرے نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں آئی ہو۔۔۔۔۔۔۔ہر طرف ہتھیار ہی ہتھیار ہوتے ہیں اور سرخ رنگ کی لائٹ میں وہ اور ہی تصور پیش کر رہے ہوتے ہیں
اس سے پہلے کہ کوئی اسے دیکھ لے وہ وہاں سے واپس جانا چاہتی تھی
وہ جیسے ہی واپس جانے کےلیے پیچھے مرتی ہے تو کبیر اس وقت دروازہ بنر کر کہ اس کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے .......اگلے ہی لمحے وہ جیسے ہی کبیر کے ہاتھ میں gun دیکھتی ہے تواس کی سٹی گم ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اب خوف کی وجہ سے بیلا کچھ بول بھی نہیں پاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبیر اور اس کے درمیان میں اب دو انچ کا فاصلہ تھا ۔۔۔۔۔۔جسے کبیر نے فورا ً اسے بازوؤں سے پکڑ کے اس کا رخ دیوار کے ساتھ لگا کر ختم کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے اس عمل پر بیلا کی چیخ نکلنے لگتی ہے لیکن کبیر اس کے منہ کے آگے ہاتھ رکھ کر اس کی آواز اندر ہی دبا دیتا ہے
اور آہستہ آہستہ اس کے کان کے قریب اپنا چہرہ لاتا ہے ۔۔۔۔
کہا تھا نا تمہیں کہ اپنے قدم ابھی اس گھر کے اندر نہ رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ہیںںں ں ں ں ں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔کہا تھا ناااااااااااااا کبیر اب پوری قوت سے کہتا ہے
وہ میں سمجھی تمممممہاارااا رومممم
چپپپپپہ ایک دم چپ آج کے بعد اگر تم نے مجھے تم کہہ کر بلایا تو یاد رکھنا اس کی ساری کی ساری گولیاں تمہارے اندر اتار دونگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبیر گن اس کے دماغ کے پاس کرتے ہوئے اس کے سر کو جھنجورتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تک میں نے برداشت کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن آج کے بعد تم میری منکوحہ ہوگی اسلئے زبان سنبھال کر بات کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کبیر اس کے کان سے اپنے ہونٹوں کو لگاتے ہوئے کہتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ۔۔۔۔۔گن اس کہ سر پہ گھما رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبیر کا سارا وزن بیلا کے اوپر تھا ۔۔۔۔وہ تو دیوار کا سہارا تھا ۔۔۔ورنہ تو بیلا نے گر ہی جانا تھا ۔۔۔۔۔
کبیر اب اس کے کان سے ہوتا ہوا اس کے بالو ں تک جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔اس کے بالوں کی خوشبو کو وہ اپنے آپ کو معطر کرتا ہے ۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے تھوڑا ٹھنڑا ہوتا ہے
اب وہ بیلا کا رخ اپنی جانب کرتا ہے
ہمممممم بتاؤ کیا کام تھا تمہیں ۔۔۔۔۔۔ گن کو دونوں آنکھوں کے درمیان لاتا ہے
وہہہہ میں کککککہہہہہہ نا۔۔۔۔۔تھ تھ تھ۔۔۔۔۔بیلا کا سارا دیہان گن کی موومنٹ کی طرف تھا جس کی وجہ سے اس کی آواز کانپ رہی تھی اوراس کی آواز میں ڈر صاف دکھائی دے رہا تھا
شششششششششششششش۔۔۔۔۔۔۔ کبیر اسے چپ کروانے کےلیے اب گن اس کے ہونٹوں پر رکھ دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔ڈر کی وجہ سے بیلا اپنی آنکھیں بند کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔کبیر کی سانسیں بیلا کے چہرے پڑ پڑنے کی وجہ سے اور اس گن کی موومنٹ کی وجہ سے بیلا کا چہرہ پسینے سے تر ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔کبیر اس کی حالت سے کافی محظوظ ہورہا ہوتا ہے اور enjoy کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔اب وہ آہستہ آہستہ گن اس کے ہونٹوں کے اوپر پھیرنے لگتا ہے جس کی وجہ سے اس کے ہونٹ کپکپانے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کبیر گن اس کی تھوڑی سے ہوتے ہوئے گردن تک لے کر جاتا ہے جس کی تاب نہ لاتے ہوئے بیلا کبیر کی شرٹ کو اپنی مٹھی میں دبوچ لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو جاؤ کچن میں اور میرے لیے اچھی سی کافی بناؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کبیر اس کو حکم دیتا ہے اور اس سے دور ہو جاتا ہے ۔۔۔۔
کبیر جانے لگتا ہے جب دوبارا پیچھے آ کر بیلا کو بازو سے پکڑ کر اسے اپنے ساتھ کچن میں لے جاتا یے ۔۔۔۔۔۔
چلو آج اس کچن میں rehearsal کرلو اور میرے کمرے میں لے آنا کافی ۔۔۔۔۔اور یاں میرا کمرہ وہ ہے وہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو انگلی سے اوپر کی طرف اشارہ کرکے کہہ کراپنے روم میں چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیلا پیلے تو کافی ڈھونڈنے میں اتنا ٹائم لگا دیتی ہے اس کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد فوراً سے کافی بنا کر اس کے روم میں داخل ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اسے صوفے پہ بیٹھا ہوا دکھائی دیا جس کے سامنے ہی ٹیبل ہوتی ہے ۔۔۔۔۔کبیر اپنے فون میں busy ہوتا ہے وہ اسی table پہ چائے رکھ دیتی ہے اور وہاں سے جانے کےلیے واپس مڑتی ہے لیکن
اسے دروازہ خود بخود بند ہوتا نظر آیا اسے سمجھ لگ گئی کہ یہ کبیر نے remote سے بند کیا ہے
وہ واپس آ کر اس کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔
دیکھئیے میری rehearsal ہو گئی ہے اب دروازہ کھول دیں تاکہ میں باہر جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے دونوں بازوکو سینے کے گرد فولڈ کرتے ہوئے کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اہاں ۔۔۔۔۔۔چلو ایک rehearsal توہو گئی ۔۔۔۔۔اب کیوں نہ دوسری rehearsal کی طرف بڑھا جائے ۔۔۔۔۔ کبیر یہ کہتے ہوئے صوفے سے اٹھ کر اپنے قدم اس کی طرف بڑھاتا ہے
میں کچھ سمجھی نہیں ۔۔۔۔۔۔بیلا اس کے قریب آنے کو نظر انداز کر کہہ دروازہ کی طرف بڑھتی ہے جب کبیر اس کا بازو پکڑ کر زور کا اپنے پاس کھینچتا ہے جس سے بیلا سیدھا اس کے سینے سے ٹکڑاتی ہے
کبیر اس کے گرد اپنے بازو حائل کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔
بتاتا ہوں دوسری rehearsal مطلب میاں بیوی والی rehearsal
یہ کہہ کر کبیر اس کی گردن پر جھکنے لگتا ہے اچانک سے بیلا کو اپنا تل یاد آتا ہے اور کبیر بھی بالکل اسی طرف جھک رہا ہوتا ہے کبیر کے جھکنے سے پہلے وہ اپنی دوسری side کبیر کے سامنے کر دیتی ہے
اووووووو ابھی سے نکھرے ۔۔۔۔۔۔۔۔کبیر اسے ایسا کرتا دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے جزبات پر قابو پا کر پیچھے ہٹتا ہے کیونکہ وہ کبھی بھی اس کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ کہیں بیلا کو یہ نا لگے کہ کبیر ہار گیا ہے اور اسطرح تو فاران کی جیت ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔لیکن ساتھ ساتھ اس پر اپنا حق جما کر اور torture کر کے وہ فاران کو اور بیلا کو ایک دوسرے سے الگ ہونے کا اور بیلا کو اس کی منکوحہ ہونے کا احساس ضرور دلاتہ دہے گا یہ اس نے تہہ کر لیاp?ref=
