تو میرا جنون قسط 3 سے 5


تو میرا جنون


EPISODE 3 


جیسے ہی بیلا نے وہ نائٹی پہنی تو یہ دیکھ کر شاک رہ گئی کہ اس میں اس ایسی بھی جگہ تھی جہاں سلک کی بجائے نیٹ تھا ۔ اور وہ بھی صرف وہاں تھا جہاں اس کے اعضأ تھے . ایک جگہ سے تو اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کو آپس میں ملا کر چھپا دیا لیکن دوسری جگہ سے چھپانے کا سوچ کر وہ وقت ضائع نہیں کر سکتی تھی ۔ یہ سوچ کر اس نے upper پہن لیا ۔ 

اور ابھی پانچ منٹ میں سے ایک رہتا تھا لیکن اس سے پہلے باہر آ گئ 

اس upper کے باوجود اس کے نشیب و فراز ابھرے ہوئے تھے 

وہ خان کو دیکھ کر اپنی ٹانگوں کو اُس upper میں چھپانے لگی 

خان کی نگا ہیں ہی ایسی تھی کہ اسے اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہوئی 

Come here now  

خان جو ٹانگ پر ٹانگ ٹیبل پر رکھ کر بیٹھا ہوا تھا ساتھ ہی اسے پاس آنے کا کہا 

وہ کانپتے کانپتے قدم اٹھاتی اُس کے پاس آئی 

خان ایک سنگل صوفے میں بیٹھا ہوا تھا جس کے آگے ٹیبل تھا اور بالکل سامنے بڑی سی سکرین تھی ۔ ہاتھ میں ریموٹ تھا ۔ شاہد کچھ لگانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ 

بیلا ڈرتی ڈرتی اُس کے پاس آئی ۔

اس نے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ اور تھوڑی سی جگہ دی ۔

____________________________

کیا مطلب بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ چاہتے ہیں کے میں آپ کو چھوڑ کے چلی جاؤں ؟ نہیں ایسا سوچئے گا بھی مت 

بابا ہم دونوں کے علاوہ اور ہے بھی کون ھمارے ساتھ 

پری نے جیسے ہی سنا کہ شہاب اسے پیرس بھیجنا چاہتے ہیں تو اس نے فوراً اس کے خلاف احتجاج کرنا شروع کر دیا ۔

لیکن بیٹا وہاں تمہارے چاچوں تمہارا پورا دیہان رکھے گے اور میں نے جلد از جلد تمہارے چاچو کو فاران اور تمہارے نکاں کا کہ دینا ہے 

شہاب صاحب نے ایک اور بم پری کے سر پہ پھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔

پری اس بات کو خاطر میں نا لاتے ہوئے وہاں سے اٹھنے لگی 

کہ شہاب صاحب دوبارہ بول اتھے ۔۔۔۔۔۔۔

وہ جو جاوید انکل ہے نااااااا ۔۔۔۔۔۔ میں تو ان کے پاس ہی رہونگا ۔۔۔۔۔۔انہوں نے ہی تو تمہارے ویزے کا انتظام کیا ہے ۔۔۔۔

اور مجھے امید ہے میری بیٹی میری بات کو سمجھے گی ۔۔۔۔۔

اور اس کے کندھے پر پیار اور مان کی تھپکی دے کر چلے گئے 

رات بھر پری اسی کشمکش میں تھی کہ آخر اس کے بابا نے اتنا بڑا فیصلہ کیوں لیا اور بھی یوں اچانک 

جبکہ شہاب صاحب نے جمشید کی بڑھتی ہوئی سازش کو روکنے کےلئے اور اپنی بیٹی کو اس سے دور کرنے کےلئے دل پر پتھر رکھ کر یہ قربانی کا فیصلہ کیا۔ 

وہ اس کا سایہ بھی اس سے دور کرنا چاہتے تھے 

_______________________

اس صوفے میں وہ دونوں بہت مشکل سے پورے آئے تھے 

اور ترتیب کچھ ایسی تھی کہ بیلا آدھی خان کے اوپر آ رہی تھی خان کی ایک ٹانگ بیلا کی دونوں ٹانگوں کے درمیاں تھی 

اور خان کا ایک ہاتھ بیلا کے پیٹ پر تھا اور خود وہ سکرین میں کچھ لگانے میں مصروف تھا ۔ 

اچانک خان نے اپنی ٹا نگ ٹھوڑی سی اوپر کی تو بیلا سسک اٹھی 

جس پر خان طیش میں آ گیا 

Relax darling im your hubby don’t feel shy 

محرم ہوں تمہارا ۔۔۔۔۔۔پورا پورا حق رکھتا ہوں اسلئے don’t over react 

خان یہ کہ کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا ۔ 

بلکہ اب اس کی بیلا کے پیٹ پر گرفت اور بھی سخت ہو گئی تھی 

اب بیلا کو ایک ہی بات کا ڈر تھا کہ نجانے وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا خیر ابھی تو وہ مصروف دکھائی دے رہا تھا ۔ 

اچانک ہی اسے بیلا کے پہنے ہوئے upper کو پکڑ کر اسے اتارنے کا کہا ۔۔۔۔۔۔

للللییککننن مممیں اس کے ساتھ بہتر محسوس کر رہی ہوں ۔۔۔ 

اس نے ڈرتے ڈرتے احتجاج کیا 

لیکن یہ میرے کام میں دخل اندازی کر رہا ہے جو میں برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔ خان نے آگے سے تیکھا جواب دیا ......

اس کا وہ upper ہوا کی وجہ سی خان کو مشکلات میں ڈال رہا تھا 

بیلا فوراً اتری اور changing room میں جانے لگی 

رررررکوووووووووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں چلییییییییییی ۔۔۔۔ہیں۔۔۔۔۔۔ 

چینج کر کے بھی تو تم نے میرے آس ہی آنا ہے تو اِس سے بہتر ہے کہ یہی اتاردو ۔۔۔۔۔اسے خان کی آواز سنائی دی 

وہ مرتی کیا نہ کرتی کے تحت واپس مڑ گئی ۔۔۔۔اور آہستہ آہستہ استریپ کھولنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔اور شرم کی وجہ سے آنکھیں بند کر لی 

اس کا upper اس کے بدن پر سے زمیں بوس ہو چکا تھا 

خان کی نظریں اس کا ایکسرے کر نے میں مگن تھی پھر اچانک ہوش میں آیا اور واپس بیٹھنے کا کہا اس لال رنگ میں اس کا جسم اپنے پورے جوہر پہ تھا 

وہ دوبارہ اسی طریقے سے بیٹھے تھے بس فرق یہ تھا کہ اب خان کا ہاتھ اور ٹانگ سیدھا اس کے بدن کو چھو رہی تھی 

خان نے ایک فلم لگائی ۔۔۔۔۔اور پیچھے لیٹنے والے انراز میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔

اس کا دھیان فلم میں کم اور بیلا پر زیادہ تھا خان نے بیلا کو بھی پیچھے لیٹنے کا کہ دیا جس کو مووی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور وہ تو بس ادھر سے گم ہونا چاہتی تھی....

بیلا نے خان کے سینے پر ٹیک لگائی ہوئی تھی ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد خان نے اپنی جیب سے اہک برانڈڈ تمباکو کا پیکٹ نکالا اور سلگانے لگ گیا ۔

بیلا آہستہ آہستہ مووی میں مگن ہونے لگی خان نے سگار کو تھوڑا آگے سے پکڑا اور پچھلا حصہ اس کے جسم کے پاس لے گیا اور کمر کے گرد پھیرنے لگا ۔ بیلا کو ایسے تو لگ رہا تھا کہ کوئی چیز اس کے جسم پر رینگ رہی ہے لیکن پیچھے دیکھنے کی ہمت نہی کر سکتی تھی 

خان اب اس کے نچلے حصے میں پہنچ گیا تھا اور سگا ر کو اس کے پیٹ کے نیچے پھیرنے لگا ۔ جس سے بیلا کے جسم میں ہلچل سی ہونے لگی۔۔۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ سگار کو اور نیچے لا رہا تھا ۔۔۔۔۔ جس سے بیلا کا جسم کانپنے لگ گیا تھا ۔

کیا ہوا ڈارلنگ IS THERE ANY PROBLEM اس نے بیلا سے پوچھا 

وہ ہ ہ۔ ہ ہ ہ ممممممججھھھےےےےےے سردی لگ رہی ہے 

اس نے کانپتے ہوئے کہا 

اوووووووہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔ یہ تو ایک سنگین مسلہ ہے تم یہیں بیٹھو 

یہ کہ کر وہ اٹھا اور ایک سفید رنگ کی چادر لے آیا ۔۔۔۔

لیکن مجھے تو بہت ہی گرمی چڑھی ہوئی ہے تو میں ایسا کرتا ہوں کہ اپنی شرٹ اتار دیتا ہوں.............ہمممممممم یہہہہہہہ سہی ہے 

اس نے اپنی شرٹ اتار کر اوپر وہی چادر کر لی اور صوفے پر آگیا اور بیلا کو اس میں آ نے کا حکم دیا......... 

اب دونوں اسی چادر میں تھے اور صرف ان کے منہ چادر سے باہر تھے ۔۔۔۔۔۔۔

___[___________________

آج دوبارہ وہ اپنے ڈیڈ کے کہنے پر اسے باہر گھمانے لایا تھا ۔ کبیر کو یہاں آئے ہوئے تقریباً چار سال ہو چکے تھے اور اس دورانیہ میں وہ جولیانہ عُرف جولی کو بہت اچھے سے جان گیا تھا ۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ جولی اُسے اپنانا چاہتی ہے ۔ تب ہی اس نے کئی بار اُسے اپنے فلیٹ میں دعوتِ خاص دی ۔ کیونکہ یہ وہاں کا رواج تھا ۔ شادی کا کوئی کانسیپٹ نہیں تھا ۔ اور کبیر بھی اس کی دعوت کو قبول کرتا تھا ۔ لیکن جب بھی وہ قریب آنا چاہتی تو یہ کوئی نہ کوئی بہا نا بنا کر وہاں سے پتلی گلی نکلتا۔ 

جب جولی کو پتہ چلنا شروع ہوا کہ کبیر اُس سے دوری برت رہا ہے تو اُس نے اس اپنی طرف attract کرنے کے لیے اور بھی جتن کرنا شروع کر دے ۔

آج بھی وہ شارٹ پہن کے آئی تھی ۔ اور dark red lipstick میں اس کے ھونٹ کبیر کو بہکا رہے تھے ۔ تب ہی وہ اس کی طرف دیکھنے سے پر ہیز کر رہا تھا ۔ اور جولی اُسے بار بار اکسا رہی تھی ۔ 

اچانک ہی اُس نے آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔ کی آواز نکالی 

کبیر جو آنسکریم کھانے میں مصروف تھا اچانک متوجہ ہوا 

کیا ہوا جان تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

آؤؤؤؤ۔۔۔چچچچچچچ۔ مجھے لگتا ہے آنکھ میں کچھ چلا گیا کبیییییییررررررررررر جلدی check کرو it’s irritating me 

Okaaaaayyyyyyyyy fin show me

کبیر نے اس کے پاس جھک کر آنکھ کے پاس پھونک ماری 

ہممممممممممممممم now fine ؟؟؟؟؟؟ اس کے بعد کبیر نے اس سے پوچھا 

ہاں thanks 

چلو رات بہت ہو گئی ہے میں تمہیں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں 

یہ کہہ کر دونوں کبیر کی گاڑی میں آئے ۔

کبیر نے music on کر دیا اور ساتھ ساتھ اپنے سر کو بھی جنبش دے رہا تھا ۔ اور ساتھ ہی ساتھ گنگنا بھی رہا تھا ۔۔۔۔۔کبھی کبھی جولی بھی اُس کے ساتھ گنگنانے لگتی ۔۔۔۔۔


.تو میرا جنون


EPISODE 4 


_______________________

دو گھنٹے کی فلم تھی خان نے جس کی speed slow کر کے اسے پورے ۳ گھنٹوں کا بنا دیا تھا ۔ وہ مخملی ڈبی خان نے صوفے کے پیچھے ہی چھپا دی تھی ۔

جیسے ہی مووی ختم ہوئی تو خان نے بیلا کی طرف دیکھا جو سو چکی تھی ۔

ہلکی ہلکی پیلی روشنی میں اس کا جسم اور بھی جگمگا رہا تھا ۔ اُس نے بیلا کے اوپر سے چادر ہٹا دی تھی ۔ اُس کا جسم اب پسینے سے تر تھا 

شاید خان کی قربت کی وجہ سے ۔۔۔۔۔

خان اس کے نازک جسم پر ہاتھ پھیر رہا تھا اور اس کیے جسم کی حرارت کو خود میں سما رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر بیلا کی ناف پر گئی اور پھر جزبات کی آڑ میں آکر اس نے اپنا منہ ناف کے پاس لا کر اپنے لب اُس پر رکھ دیے ۔ اور آہستہ سا اپنے دانٹ سے اُس کو دبایا جس پر وہ ہلکا سا کسمائی ۔۔۔۔۔ اس نے بیلا پر وہی چادر کروا دی اور خود بیڈ پر آ کر سو گیا ۔ 

____________________________________

پری نے اپنی packing مکمل لر لی تھی ۔ دو دن بعد اس نے پیرس جانا تھا ۔ اور ابھی تک اسے یقین نہیں آ رہا تھا ۔ اور سمجھ بھی نہیں آ رہی تھی کہ اس کے پیچھے کیا reason ہے جو اس سے چھپائی جا رہی ہے 

وہ وہاں جا کر اپنی پڑھائی مکمل کرے گی اور شادی نہیں یہ بات اس نے شہاب صاحب سے صاف صاف کہ دی تھی ۔ اور آج اس نے اپنی دوستوں کو فئیر ویل پارٹی دینی تھی ۔ اس لیے اس نے اپنا نئا فراک باہر ہی رکھ لیا اور باقی کا سامان پیک کر لیا ۔ 

تھوڑی دیر بعد وہ واشروم سے نکلی اور میک اَپ کے نام پر تھوڑا سا مسکارا لگایا اور کاجل سے آنکھوں کو اور بھی موٹا کیا 

اچانک اُس کی نظر آپنی گردن پر گئی ۔ اس کی میکسی کا گلہ deep ہونے کی وجہ سے اُس کا تل نمایاں ہو رہا تھا ۔ اُس نے فوراً بیس نکال کر اس کو چھپا نے کے لیے اس پر لگایا ۔ اور اس کے بعد ایک سونے کی باریک چین سے اپنے گلے کی زینت بڑھائی ۔ 

_________________________

وہ دونوں اب کار سے باہر نکل آئے تھے اور جولی اسے فورس کر رہی تھی کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے فلیٹ پر آئے ۔۔۔۔۔۔لیکن وہ تھا کہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے پتا تھا کہ اگر وہ نا گیا تو ڈیڈ آج کو دوبارا باتیں سنائے گیں لیکن آج اسے جولی کے ارادے تھیک نہیں لگ رہے تھے اور کبیر خود بھی بے قابو ہو رہا تھا ۔ اسلئے اس نے اپنی پوری کوشش کنی چاہی لیکن جولی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ اندر لے گئی ۔ اندر جاتے ساتھ اس نے دروازے کو زور سے بند کر کے اپنے غصے میں ہونے کا ثبات دیا 

جوووووووولییییییی۔۔۔۔۔۔۔ calm down جان کیا ہوا ہے ؟؟؟؟؟؟ 

کبیر نے اسے بازو سے پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

کیسے calm down کبیر ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اب اپنی منمانی کرتے ہو اور میری چاہت کا تمہیں کوئی احساس نہیں ۔۔۔۔۔۔اور مجھے کہتے ہو کہ calm down اب اس نے کبیر کا گریبان پکڑ لیا تھا اور اس کی گردن پہ انگلیاں پھیر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ آج نہیں ۔۔۔۔۔آج بہت ہوا ۔۔۔۔یہ کہہ کر کبیر کے سینے کے ساتھ لگ گئی ۔۔۔۔۔کبیر کے گلے کے دوچار button گھلے ہونے کے وجہ سے اس نے کبیر کے سینے پر اپنے لب رکھ دیے ۔۔۔۔

جب کہ کبیر آپنا آپ چھڑوانے کے لیے پیچھے کو ہوتا گیا اور دیوار کے ساتھ لگ گیا ۔۔۔۔۔۔۔

Jolly leave me damit ...... are you in our senses 

کبیر نے طیش میں آ کر زور سے جولی کو دور دھکیلنا چاہا 

لیکن اس کی شرت میں اضافہ ہوگیا تھا 

اور جا بجا اپنے lipstick کے نشان اس پر چھوڑتی گئی 

یہ سب کبیر کی برداشت سے باہر ہوتا جارہاتھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے اپنے ہاتھ سے اپنی کمر سے اس کے دونوں ہاتھ ہٹائے اور ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر مارا اور دروازہ کھول کر باہر چلا گیا ۔ دیکھے بغیر کے مقابل پر کیا اثر ہوا ہے تھپڑ کا ۔۔۔۔۔۔۔ یا وہ ہوش میں ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔_________________________

صبح جب بیلا کی آنکھ کھلی تو اس کی نظر بیڈ پر گئی ۔ جہا ں خان آرام کی نیند سو رہا تھا ۔ اس نے پھر اپنا حلیہ دیکھا اور کپڑے change کرنے کا سوچا لیکن اس کمرے میں اس کے کپڑے نہیں تھے اور اگر تھے بھی تو اس قابل نہیں تھے کہ کھلے عام پہنے جائیں ۔ یہ سوچ کر اس نے وہی چادر اپنے ارد گرد لپیٹی اور باہر آ گئی ۔وہ کافی بڑا گھر تھا ہر کمرے کے دو دو دروازے تھے ۔ جس کی وجہ سے اسے اپنا کمرہ تلاش کرنے میں بہت دیر لگی ۔ پاکستان میں وہ اتنی مزے کی زندگی گزار رہی تھی ۔ اس نے صرف ایک دفع ہی اپنے بابا سے بات کی تھی ۔ خان نے اس کا پاسپورٹ بھی لے لیا تھا جب اس نے واپس جانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔یہ سوچ آتے ہی اسے دوبارا خان پر غصہ آیا ۔ بالکنی سے گزرتے ہوئے اچانک اس کی نظر ٹیلیفون پر گئی جو کہ ایک اونچے سے ٹیبل پر تھا۔ اس نے فوراً ہی ٹیلیفون اٹھایا اور پاکستان تھا نمبر ڈائل کرنے لگی لیکن اس فون پر آواز نہیں آرہی تھی ۔

جیسے ہی اس نے سکریں پر دیکھا تو پتہ چلا کہ فون ڈیڈ تھا ۔

اس نے اِدھر اُدھر نظر دوڑا کر تار دیکھی ۔۔۔۔۔کہ اپنے پیچھے خان کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی آواز سے وہ سہم گئی اور اسے لگا کہ وہ پکڑی گئی ہے 

کچھ پوچھ رہا ہوں میں تم سے ۔۔۔۔ 

دوبارا آواز سے اس نے ہوش کی دنیا میں قدم رکھے 

جی ججججججیییییییییی وہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے کپڑے نہیں ہیں تو وہ تلا ش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

ہاں تمہارے کپڑے مجھے یاد نہیں رہا لانے تم ایسا کرو کہ اوپر مام ڈیڈ کے روم میں جاؤ شاید ان کا کوئی ایک آدھ پڑا ہو تم وہ پہن لینا ڈریس۔۔

میں فری ہو کر تمہیں لے جاؤنگا شاپنگ پر ۔۔۔۔۔ خان نے اپنی بات مکمل کی اور روم میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔ 

وہ اوپر گئی تو ایک ساڑھی کے علاوہ اسے کچھ نظر نہ آیا تو اس نے اسے ہی پہننے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔

اس کے دراز قد پر وہ بہت کمال لگ رہی تھی ۔ اس کے بعد اس نے کچھ بنانے کےلیے کچن کا رخ کیا 

اس نے ساڑی کا پلو ایک طرف سے اندر کیا اور کھلے ہوئے بال باندھنے کا سوچا یہ دیکھے بغیر کے کوئی اس کے پیچھے کھڑا اسے اپنی نظروں میں اتار رہا ہے ۔ پہلے تو اس کے لمبے بالوں نے اس کی کمر کو چھپایا ہوا تھا لیکن جب اس نے اپنے بال باندھ لیے تو اسکی کمر ہک کھلے ہونے کی وجہ سے صاف نظر آرہی تھی ۔ 

خان اب آہستہ آہستہ اس کے پاس جانے لگا ۔۔۔۔۔

بیلا کو کلون کی خوشبو آئی تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہا لیکن خان نے اِس سے پہلے ہی بیلا کو اپنی باہوں میں بھر لیا تھا۔ 

بیلا کا سراس کے سینے تک آرہا تھا۔ خان پہلے اپنی انگلیاں اس کی کمررپر پھیرنے لگا اور اسے ایک جھٹکے کے ساتھ شیلف پہ لگایا۔ اس کے بعدگلے کی ڈوری باندھی اور پھر بلاؤز کا ہک لگانے لگا ۔ اس کے بعد بیلا کا رخ اپنی جانب کیا

ویسے شوہر کی پسندیدگی کا خیال تو تم بہت اچھے سے رکھتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خان یہ کہہ کر چلا گیا 

بیلا کی سمجھ میں نا آیا کہ خان کو ساڑھی پسند ہے تبہی اس نے یہ بات کی ہے 

__________________________

پری ائیر پورٹ پر اپنے بابا کے گلے لگ کے بہت روئی ۔ اس کی زنرگی کا اغاز ہونے جا رہا تھا جس میں اس کے بابا اس کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے ۔ اب آگے کی لڑائی اس نے خود ہی لڑنی تھی ۔ جیسے ہی اس کے بابا نے اس کو جمشید عرف جیمی کا بتایا کہ کیسے وہ بچوں کو کڈنیپ کر کے ان سے کام نکلواتا ہے ویسے ہی اس نے جمشید کا نام N.G.O میں درج کروایا تھا ۔ لیکن یہ بات جمشید سے چھپی نا رہ سکی اور اس نے شہاب کے گھر آنا جا شروع کر دیا کہ اپنی بیٹی کو سنبھال کے رکھو نہیں تو وہ شہاب کی سچائی پری کو بتا دے گا ۔ 

جیسے ہی جمشید کو پتہ چلا کہ پری پیرس آ رہی ہے تو اس کے پاؤں سے زمیں نکل گئی ۔ کیونکہ اسے اندازہ تھا کہ پری نے یہاں کر اس کے خلا ف کام جاری رکھنا ہے اور پا کستان میں تو صرف kidnapping کی غرض سے جاتا تھا ۔ اصل ملک تو اس کا پیرس ہی تھا۔ جہاں اس کی ایک عزت تھی اور اس کے کالے کرتوتوں کو کوئی نئیں جانتا تھا ۔ یہاں تک کہ اس کا بیٹا بھی نہیں ۔ لیکن اب اس کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی تو صرف پری ۔ 

_____________________________________

کببببببببییییییییییییررررررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہاں ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ بغیرت انسان ۔۔۔۔۔جمشید صاحب نے اپنے بیٹے کو بلایا 

کبیر جو جِم روم میں تھا فوراً بھاگا ہوا اس کے پاس آیا yesssss dad 

کیا ہوا 

چٹاااااخخخخ خ خ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جمشید صاحب نے زور کا تھپڑ اس کے منہ پر مارا ۔۔۔۔۔۔

اس سے بھی زور کا تم نے مارا ہوگا اسے کہ اسے بے ہوش کر دیا ۔۔۔۔۔۔

جمشید اس پر برس اتھا ۔ 

تمہیں نہیں پتا ؟ لاکھوں کی ڈیٹ فائنل ہوئی ہے Mr James کے ساتھ اور تم ان کی بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہو ۔۔۔۔

بٹ ڈیڈ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ ہ ہ بیہوش ہو گئی ہے جو بھی ہو وہ ہے تو میری منگیتر نہ۔۔۔۔۔۔۔میں بلا وجہ اس پر ہاتھ کیوں اٹھاؤنگا ۔۔۔۔۔۔اس نےےےےےےےے۔۔۔۔۔۔ کبیر اتنا ہی بولتا ہے کہ جمشید اس کی بات کاٹ دیتا ہے ۔۔۔۔ 

ہاں اس نے تمہیں گلے لگایا ۔۔۔۔۔۔تمہارے قرہب آئی ۔۔۔۔۔۔۔تو تم نے دے ماری اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں ڈیڈ وہ ہ ہ ہ ہ ہ 

بسسسسسسسسسس بہت ہوا آج رات تم اس کے پاس جاوگے ۔۔۔۔ آگے میں کچھ سننا نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔۔

لیکن آج رات تو میں نے حیدر کی بہن کو پِک کرنا تھا ۔حیدر busy تھا تو اس نے مجھے بول دیا ۔

وااااااااااہہۂہہہہ ہ۔ ہ ہ ہ۔ جیییییییی واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا بڑا خیال ہے تمہیں ہاں !!!!!؟ میں فضول بحث نہیں کرنا چاہتا تم سے now get lost 

جب کبیرچلا گیا تو جمشید نے فوراً جولیانہ کو کال کی اور کبیر کے آنے کا بتایا اس کے بعد مسٹر جیمز سے معذرت بھی کی اورر ان سے جلد ملنے کا کہا تاکہ بغیر دیر کیے وہ ان کی شادی کروائے اصل میں تو یہ ایک business deal تھی 

رہی بات رشتے کی تو انہیں پورا بھروسہ تھا کہ کبیر آج جولیانہ کو خوش کرے گا ۔ کیونکہ ایک وہ ہی تھے جس کی بات کبیر کےلیے پتھر پر لکیر ہوتی تھی


تو میرا جنون


Epi 5 


🔥🔥🔥🔥🔥

اس دن خان بیلا کو شاپنگ پر لے کر نا جا سکا ۔اگلے دن دونوں شاپنک پر نکل پڑے ۔ بیلا کئی دنوں بعد گھر سے باہر نکلی تھی ۔ آس پاس کی بلڈنگز دیکھ کر اسے کوفت سے محسوس ہوئی ۔ تھوڑے سے فاصلے پر جاکر سبزہ دکھائی دیا تھا ۔بیلا جب سے یہاں آئی تھی ، صرف ایک دفع ہی گھومنے گئی تھی ۔ وہ بھی آئفل ٹاور ۔ خان کا سارا دیہان driving پر تھا ۔ گاڑی میں لگے گانے کے ساتھ کبھی وہ بھی گا لیتا تھا ۔ اور ساتھ ساتھ اپنے سر کو بھی ہلاتا جاتا تھا ۔ 

تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ مال پہنچے تھے ۔ بیلا کو کوئی dress پسند نہ آیا تھا کیونکہ سارے کہ سارے western style کے تھے ۔ البتہ خان نے 5 شارٹس اسے دلوا دی تھی ۔ اور ساتھ ہی ۲ نائٹی بھی زبردستی دلوائی ۔۔۔۔۔۔ بیلا جھجک کی وجہ سے اندر نئیں جاتی تھی خان کے اسرار اور غصے سے ڈرتے ہوئے وہ اس دکان کے اندر چلی گئی 

خان کال کا کہہ کر باہر ہی رہا ۔ 

جیسے ہی اندر گئی تو ہر طرف couple کا رش تھا اور وہ صرف اکیلی تھی ۔ اسے سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہے اور کسے کہے 

ہمت کر کے خان کو بلانے کے لیے باہر گئی لیکن باہر کوئی تھا ہی نہیں 

اور وہ اس دکان سے جلد از جلد دور جانا چاہتی تھی ۔ 

خان کو نا پاکر اس کے دماغ نے اچانک کام کیا کہ کیونہ وہ اپنے چاچو کی طرف جائے پتہ نہیں وہ کس حال میں ہوںگے اور انہیں میرے نکاح کا پتہ بھی ہوگا یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر خان نے اسے پکڑ بھی لیا تو کہہ دے گی کہ میں باہر آئی تو تم موجود نہیں تھے تو میں خود ہی واپس آگئی وہاں پر comfortable نہیں تھی میں نے تمہارا wait کیا لیکن تم نہ آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔

بیلا جیسے ہی باہر آئی فوراً taxi نظر آئی ۔ ۔۔۔۔۔۔اس نے اسے address بتایا اور چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی توڑی دور ہی گئی تھی کہ ایک گاڑی نے آگے سے آکر اس کا راستہ روک لیا ۔۔۔۔۔۔۔بیلا کو یہ سمجھنے میں وقت نہیں لگا کہ یہ گاڑی اس کی ہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے فوراً سے پہلے taxi کو اپنی side سے lock کر دیا 

کبیر کے اس تک پہنچنے تک وہ لاک کر چکی تھی ۔۔۔۔۔۔

اس نی taxi driver کو باہر آنے کا کہا اور خود جا کر driving seat میں بیٹھ گیا 

اس نے زور سے سٹئیرنگ پکڑا ہوا تھا یہاں تک کہ اس کے ہاتھ کی رگیں اور بھی واضح ہو گئی تھی ۔

جلدی سے گاڑی سے اترو نہیں تو آج اسی گاڑی میں سہاگ رات منالونگا اس نے اپنے دانتوں کو پیستے ہوئے کہا ۔ اس کے کہنے کی دیر تھی کہ فوراً گاڑی سے اتر گئی 

ہاااااااااااں ں ں توووووووو کہاں جا رہی تھی تممممممممم ہہہہہییییییںں ؟؟؟؟؟؟؟؟، وہ اپنے ناخن اس کے بازو پر گاڑتے ہوئے بولا 

میں گھررررررررر ہہہہہیییییی ججججاااا رہیی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا ابھی پتہ چل جاتا ہے ۔۔۔۔وہ اسے چھوڑتے ہوئے taxi driver کی طرف گیا ۔۔۔۔ بول کہاں لے کر جا رہا تھا تو ؟؟؟؟؟؟؟ 

اس taxi driver نے رٹا رٹایا address اسے سنا دیا ۔۔۔۔۔۔۔اس کے سننے کی دیر تھی کہ خان ۔۔۔۔۔۔طیش میں آ کر بیلا کی طرف آیا ۔۔۔۔

لیکن بیلا تو وہاں موجود ہی نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔اچانک اس نے سامنے دیکھا تو وہ سنسان سڑک پہ بھاگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ دیکھتے ہی اس کے چہرے پر غصے کی جگہ مسکراہٹ نے لے لی ۔۔۔۔ ہاہاہاہا i like it 

لیکن آج تمہیں مجھ سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا my darling 

یہ کہہ کر وہ وہاں پر رکا نہیں بلکہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اس کا پیچھا کرنے لگا ۔ اور بہت low speed میں بھی با آسانی اس تک پہنچ گیا 

یہ لو پانی کی بوتل دیکھو کتنا سانس چڑھ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔خان نے پانی کی bottle اس پر اچھالی ۔۔۔۔۔۔

جسے دیکھ کر وہ اور تیزی سے چلنے لگی ۔۔۔۔۔

ارےےےےےےےے مییییییررررررییییییی ی ی ی۔ جان میں نے تمہیں کچھ کہا ہے جو اتنا ڈر رہی ہو come on جلدی سے گاڑی میں بیٹھو شاباش ۔۔۔۔۔۔ خان نے نرمی کا مظاہرہ کیسے کیا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا ۔ اس کے اندر کی آگ کو اس نے باہر آنے سے روکنا تھا ابھی کیونکہ کچھ دیر بعد وہ اپنی یہ آگ بجھانے والاجو تھا

بیلا نے جب دیکھا کہ خان کا غصہ ماؤف ہو چکا ہے تو اس نے گاڑی میں بیٹھنے میں ہی بہتری سمجھی ۔۔۔۔۔۔

لیکن جیسے ہی بیلا گاڑی میں بیٹھی خان نے پھرتی سے lock کیا اور fast drive کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے ہی گاڑی گھر کے آگے رکی اس نے بیلا کو دیکھا اور پھر آنکھوں کی چنگاری سے ایک طنزیہ مسکراہٹ اس پر اچھالی جس سے اسے انہونی کا احساس ہوا ۔

وہ اس کا بازو پکڑتے ہوئے لاونچ میں آیا اور اچانک چھوڑا جس سے وہ صوفے کے اوپر گر گئی ۔۔۔۔۔۔۔

ہاں تو بولو ...........کیوں جا رہی تھی وہاں ۔۔۔۔۔ خان نے اس سے پوچھا 

چاچو سے ملنے ۔۔۔۔۔گویا جواب بیلا نے پہلے سے تیار رکھا ہوا تھا 

خان نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا ۔۔۔۔۔ 

چاچو سے ملنے یا اپنے اس عاشق سے ملنے جس کی تڑپ اپنے دل میں رکھی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔ہااااااااںںں ں ں ۔۔۔۔۔۔ 

یییییییییہہہہہہہہ آپپپپپپپہپ ککککییییاااااا۔۔۔۔۔۔۔۔ بیلا نے اس کی misconception کو clear کرنا چاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 

شششششششششششششش شش اب میں تمہیں بتاؤگا کہ تڑپ کو ختم کیسے کرتے خان اسے گھسیٹتے ہوئے اوپر روم میں لے گیا۔ اور جا کر بیڈ پر گرایا ۔ اس سے پہلے کہ وہ بیلا کے قریب آتا ۔ بیلا پیچھے کو کھسکی خان نے اس کو دونوں ٹانگوں سے پکڑا اور قریب لایا ۔ ساڑھی کا پلو اس کے جسم سے الگ ہو چکا تھا ۔ خان نے فوراً اپنے دہکتے لب اس کی شہہ رگ پر رکھے ۔ بیلا نے چھڑوانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ خان کے اندر کا جانور خود ہی جگا چکی تھی ۔ دونوں ہاتھوں سے اس نے خان بال نوچے تاکہ وہ پیچھے ہٹ سکے ۔ خان نے اپنی pants سے بیلٹ بکال کر اس کے دونوں ہاتھوں کو بیڈ کے ساتھ لگا کر باندھ دیا ۔

اب دوبارہ اس کی گردن پہ لب رکھے اور جا بجا کس کرنا شروع کیا ۔

بیلا کے احتجاج میں کمی نا آئی تو اس نے اٹھ کر صوفے سے مخملی ڈبی اٹھائی جس میں ایک سیاہ رنگ کی پٹی تھی ۔ اور اس کے اوپر آکر پہلے اس کے لبوں کو چوما اور اپنی پیاس بجھائی ۔ اس کے بعد اس سیاہ پٹی سے اس کے منہ پر قفل لگایا ۔ خان اب اس پر پورا قابض ہو چکا تھا 

اس نے بیلا کو الٹا کیا اور اس کے بلاوز کے ہک کھول دئے ۔ اس کے بعد بیلا کے سینے پر شدتیں لٹاتا رہا آہستہ آہستہ نیچے کا رخ کرتا ریا 

بیلا کے وجود میں ایک لہر سی دوڑ رہی تھی ۔ اب وہ صرف trouser میں موجود تھی ۔ خان نے اس کی ناف پر ہلکا سا bite کیا 

اور پھر trouser کو تھوڑا نیچے کرنے لگا ۔ جب اس کی ٹانگوں سے جدا ہو گیا تو اس نے پھر اپنی shirt اتاری اور pant کی زپ کھولنے لگا ۔ یہ سب دیکھنے کے بعد بیلا نے اپنی آ نکھیں بند کر لی ۔ پوری رات خان بیلا پر اپنی شدت لٹاتا رہا اور تقریباً 5 بجے اس سے الگ ہوا ۔ بیلا جو اپنی سسکیاں دبائے ہوئے تھی کب کی بیہوش تھی ۔

___________________________

اس نے جیسے ہی پیرس کی سرزمیں پر قدم رکھا ۔ تو دل میں برے برے وسوسے آئے کہہ وہ یہاں کیسے رہے گی ۔ چچا سے تو وہ آج تک نہیں مل پائی تھی جس کی وجہ اسے معلوم نہیں تھی ۔ بس اس نے فاران کو دیکھا ہوا تھا وہ بھی چار سال پہلے پتہ نہیں اب وہ پہچان پائیگی کہ نہیں ۔۔۔۔ اگر اس نے اس رش میں فاران کو پیچان بھی لیا تو کیا چچا چچی اسے اپنے گھر رہنے دیں گے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی پری اسی کشمکش میں تھی کہ اس کی موبائل کی بیل بجی جس کی سم اس نے کچھ دیر پہلے ہی changeکی تھی ۔۔۔۔۔سکرین پر بابا کا نمبر دیکھ کر فوراً کال اٹھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔شہاب صاحب نے اسے بتا یا کہ فاران اسے پک کرنے کےلیے چل پڑا ہے بس راستے میں ہوگا ۔۔۔۔۔اور ۱گھنٹے تک air port 

پہنچ جائے گا ۔۔۔۔۔۔ پری نے ایک لڑکی سے waiting room کا پتہ معلوم کیا اور وہاں چلی گئی ۔ 

_______________________________________

کبیر نے جولی کے لیے ایک پیارا سا bracelet لیا اور اب اس کا ارادہ 

حیدر کی بہن کو airport سے پک کرنا تھا ۔ اس نے black shirt اور اس کے نیچے White pant پہنی ہوئی تھی ۔ وہ آج پہلے سے زیادہ وجہیہ لگ رہا تھا کیونکہ اسے جولی کی طرف جو جانا تھا۔ 

حیدر کی بہن کبیرکے ساتھ بہت زیادہ attach تھی کیونکہ حیدر اپنا زیادہ وقت اپنی wife کو دینے لگ گیا تھا اور شادی کے بعد وہ اس ذمہ داری سے دور بھاگنے لگ گیا تھا ۔ جس کی وجہ سے کبیر نے پارسا کو بہن کی طرح پالا تھا ۔ 

تھوڑی دیر بعد وہ airport پہنچ گیا اور waiting room میں چلا گیا 

تھوڑی دیر بعد وہ اسے دکھائی دی 

ریڈ ٹاپ ، بلیک جینز ، گلے میں مفلر اور اونچی پونی ٹیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑا پاس جا کر دیکھا تو اور شاک ہوا جب اس کی eyesballs کا رنگ دیکھا 

اور کبیر کی سمجھ میں نہ آیا کہ اتنے سے عرصے میں اس کی آنکھیں black کیسے ہوگئیں 

پری نے جب اسے دیکھا تو اس کا بھی کچھ ایسا ہی reaction تھا ۔ کہاں وہ سانولے رنگ کا فاران ہوا کرتا تھا کسی زمانے میں اور کہاں رنگ ہی نکال لیا اس نے تو واہ بھئی واہ ۔۔۔۔۔۔اس نے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔لیکن ِاس کا تو قد بھی کا فی لمبا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر مجھے کیا۔۔۔۔اس نے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔۔اور پھر آگے بڑھ کر اس کی طرف آئی ۔۔۔۔۔۔

کبیر بھی اپنی سوچ کو جھٹلا کر اس کی طرف آیا ۔۔۔۔۔۔اور پھر اچانک سے اس کو پکڑ کر کس کر اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔۔۔ 

اور دوسری طرف پری تھی جس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔۔۔۔بلکہ اب اسے سانس لینا بھی مشکل لگ ریا تھا 

کچھ دیر بعد اسے دور کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری جان تو اتنی بڑی ہوگئی ہے میں تو پہچان بھی نہ سکا ——- 

کبیر نے اس سے اپنی بات کا آغاز کیا اور اس کے ہاتھ سے بیگز لے کر گاڑی میں رکھے ۔۔۔۔۔۔۔پری بھی پیچھے پیچھے چل پڑی ۔۔۔۔۔

اب وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ چکے تھے 

کبیر پارسہ کو پیار سے پری کہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلیے وہ بات بات پر اسے پری کہہ کر پکار رہا تھا ۔۔۔۔۔

پری پہلے برداشت کرتی رہی اور پھر اچانک اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ببببب ببسسسسسسسسسس بہت ہوا۔۔۔۔۔۔کب سے پری پری لگایا ہوا ہے 

اچانک پری پھٹ پڑی ۔۔۔۔۔

اس پر کبیر بہت حیران ہوا ۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا کہہ رہی ہو پری نام تو میں نے رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔تمہا رے خان بابا نے ۔۔۔۔۔کبیر نے اسے وضاحت دینی چاہی 

یہ سن کر پری طیش میں آگئی what rubbish کیا فضول بکواس کئے جارہےہو ۔۔۔۔۔۔۔پری نے کبیرسے کہا ۔۔۔۔

لیکن پارساااااااااااااااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبیر ابھی بولنے ہی لگا تھا کہ پری پارسا نام سن کر بلبلا اتھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پریییییییییششششششششے ۔۔۔۔۔۔۔پریشے نام ہے ہمارا ۔۔۔۔۔۔آئی سمجھ پریشے ابابیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سن لو کا ن کھول کے 

کبیر نے فوراً گاڑی کی بریک لگائی ۔۔۔۔۔۔what???????? 

تم ۔۔۔۔۔پریشےےے ابباااابییلل ۔۔ تو پارسا

اگر اتنا ہی مشکال نام ہے تو تم مجھے بیلا بھی کہہ سکتے ہو ہاااااںں ں

پر پری کہنے کی جراًت بھی مت کرنا oookaaayy?? V. یہ صرف مجھے میرے بابا کہہ سکتے ہیں 

اففففففففف ہوووواووو stop it یہا ں مجھے اس کی tension ہے اور تم ہو کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے نام کا گیان لے کر میرے سر پہ سوار ہو ؟ کبیر کو اس کی بات سے کوفت ہونے لگی تھی ۔ 

کس کیییییی tension کھائے جارہی ہے ؟؟؟؟؟؟ کبیر کو فون میں busy دیکھ کر اس نے اس سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔ 

وہ اب فون پر کسی سے بات کر رہا تھا ۔۔۔ جس کے بعد اس نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کچھ نہیں پری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اووووو sorry I mean to say بیلا ۔۔۔۔۔ویسے بیلا بھی اچھا نام ہے ۔۔۔۔i like it ۔۔۔۔۔۔۔ کبیر نے اس کے چہرے کو بغور دیکھ کر one side smile پاس کی ۔

اگر تمہارا ہو گیا ہو تو ہم گھر چلیں ؟؟؟ بیلا کو اب اس پر غصہ آرہا تھا ۔۔۔

گھھھھھھررررررررر۔۔۔۔۔۔ کبیر نے ایک آبرو اچکا کر اسے کہا 

تو اور گلی ڈنڈا کھیلنے کا ارادا رکھتے ہو کہا ۔۔۔۔۔بیلا کہا آگے سے چپ رہنے والی تھی فوراً بولی ۔

اس پر کبیر نے غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔میڈم limits میں رہیں کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جاہیں ۔۔۔۔۔یہ پیرس ہے نا کہ تمہارا پاکستان جہاں تم گلی کے لڑکوں کو بلاواؤ گی تو بچ جاؤ گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئی بات سمجھ میں ۔۔۔۔

مزاق تھاااااا؟؟؟؟؟ ہہیہیہیہیہییہہییہیہ ہنسو کیا ؟؟؟؟؟؟ کچھ بھی ؟؟؟؟؟ بیلا جل کر بولی ۔۔۔۔۔

کبیر نے ایک نگاہ اس کے سراپے پر ڈالی ۔۔۔۔اور پھر گاڑی روک دی

Post a Comment

Previous Post Next Post