تو میرا جنون
Epi 1
آپ یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ اس نی اس سے دور جانے کی کوشش کی لیکن اس کی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ وہ آزاد نہ ہو پائی ۔ اب اس کا ہونٹ چہرے سے ہوتے ہوئے اس کی گردن کو چھو رہے تھے ۔ لیکن بیلا کی سسکیان اس کے کام میں خلل پیدا کر رہی تھی جو وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔ لہزٰا اس نے اپنی ٹائی اتاری اور اس کے منہ کے پاس کر کے اس کا منہ باندھ دیا ۔۔۔
اب اس کے دونوں ہاتھ خان کے وزنی ہاتھ میں قید تھے ۔۔۔۔
ھاھاھاھا دیکھو میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ میرے کام میں کوئی ٹانگ اڑائے یہ مجھے پسند نہیں لہکن تمہاری سمجھ میں بات کہاں آتی ہے but don't worry میں ہوں نا ۔۔۔ سمجھانے کےلیے یہ کہتے ہی وہ دوبارہ اس کی گردن پر جھک گیا اور اس دشمنِ جاں تل کو اپنی پوری قوت سے bite کیا بیلا کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوں اس ستمگر کی شدت کا منہ بولتا ثبوت پیش کر رہے تھے
ویسے تو وہ اپنی دنیا میں ایک اپنے کام کو پھرتی سے کرنے والا انسان مانا جاتا تھا لیکن ان کاموں میں خان ایک الگ ہی روپ دیکھنے کو ملتا تھا
———————————
مجھے میری بیٹی پہ فخر ھے ۔ اگر وہ تم جیسوں کے خلا ف کھڑی ہے تو اس میں میں اس کا بھرپور ساتھ دونگا
یہ کہتے ہی شہاب صاحب نے تھنڈے پانی کا گلاس اپنے اندر انڈیلا کیونکہ انہے سامنے والے انسان کی طاقت کا اندازا تھا لیکن اپنی بیٹی کے لیے انہے یہ خطرہ مول لینا پڑا
ٹچ ٹچ ٹچ ۔۔۔۔
شہاب میاں یہ لے ٹشو ۔۔۔۔۔ اتنا پسینہ کیوں آ رہا ہے ویسے آپ کی پری نظر نہی آی مجھے کہاں ہے وہ
خبردار ! بیٹیاں صرف اپنے باپ کےلیے ہی پریاں ہوتی ہیں جمشید ۔ تم جیسوں کمینوں سے تو انھیں بچا کے ہی رکھنا چاہئے
غلط ۔۔۔۔۔ سراسر غلط شہاب صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹیا ں اپنے باپ کےلیے نہیں نہیں نہیں نہیں ھاھاھاھاھاھاھا سگے باپ ۔۔۔۔۔۔ شہاب صاحب سگے باپ کےلیے پریاں ہوتی ہیں ٹچ ٹچ ٹچ
یہ سنتے ہی جیسے اس کے اوپر کسی نے پہاڑ گرا دیا تھا
یا پر کسی نے اس کو ماضی کو یاد دلا دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Ahhhhhhhhh that's great خان تمہیں پتا ہے اس رات کو تو ایسا لگا جیسے میں آسمان کو چھو رہی ہوں
خان جو اپنے بابا کے کہنے پر اس کی اسائنمنٹ بنا رہا تھا اس کی سریلی آواز سے لطف اندوز بھی ہو رہا تھا
لیکن وہ لڑکی اس کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی تھی
کالے رنگ کی شورٹ میں اس کا سراپا اور بھی جوبن پر تھا
کشادہ سینہ پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا
اچانک اس نے خان کے ہاتھ سے پنسل جھپٹی اور اور اپنے سینے کی درمیان کی لکیر میں ڈال دی
ھاھاھاھاھا
یہ تو تب ہی ملے گی اب جب تم یہاں پر کِسی دو گے یہ کہتے ہی اس نے اپنے ہونٹ کو گول کیا اور اس کے سامنے اپنا منہ کیا
Ohhhhh so you are challenging me..... You are challenging your khan.......hahaaaaha you know that nothing is impossible for khanzada
یہ کہتے ہی اس نے ایک پیج اس کے ہونٹوں کے پاس کیا جس سے اسے لگا کہ وہ کبیر کا ہونٹ ہے اور اگلے لمحے وہ پنسل باہر نکالی
یہی توکبیر کا انداز تھا
کبھی بغیر کچھ کیے اسے آسمان پر پہنچا دینا اور کبھی ایسا مدہوش کرنا کہ وہ اس کی چال نہ سمجھ پاتی
————————————-
آہستہ آہستہ اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو دیکھا کہ کمرا تا ریکی میں ڈوبا ہوا تھا کمرے کے اوپر والی چھت پر چاند ستاروں کے سٹیکر کی وجہ سے تھوڑی سی روشنی تھی جس کی وجہ سے بیڈ پہ سوئے انسان کے چہرے کے نقش واضح دکھائی دے رہے تھے
وہ کچھ دیر وہی پر کھڑی رہی پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھائے منہ کے دونوں طرف لال نشان تھے اس کے گردن پر بھی جگہ جگہ ایسے ہی نشان تھے اگر آج بھی وہ یہاں نہ آتی تب کبیر اسے کوئی نئ سزا دے دیتا یہی سوچتے ہوئے اس نے اس کے کمرے کی طرف رجوع کیا ۔
لیکن پھر نجانے کس خیال کے تحت آپس مڑی
نہیں میں اس کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔۔۔۔ بیلا calm down اگر اس نے تمہیں کچھ کہا کل تو آگے سے مقابلہ کرنا لیکن اس کے حکم کی تکمیل تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی اسی خیالوں میں تھی کہ
اسے زمیں پر کسی کا سایا دکھائی
